تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 660
اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہونے لگیں۔میں نے ان سے کہا کہ جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ فرد فرد سے محبت سے پیش نہیں آتا ، فرد فرد سے نفرت اور حقارت کا سلوک کر رہا ہے، قوم قوم سے نفرت کرتی ہے تو مجھے شرمندگی بھی ہوتی ہے اور بڑا دکھ بھی ہوتا ہے۔کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ انسان انسان سے پیار کرنا سیکھ لے؟ ویسے چونکہ یہ پڑھی لکھی اور ہوشیار قو میں ہیں، نہ میں نے روس کا نام لیا تھا، نہ میں نے امریکہ کا نام لیا تھا، ان میں سے ایک نے آگے سے یہ جواب دیا کہ اب تو روس کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ ہوگئی ہے۔میں نے اس سے کہا ، OUT OF FEAR NOT OUT OF LOVEوہ کھسیانہ سا ہو کر کہنے لگا ، ہاں، یہ بات ٹھیک ہے۔بہر حال ایک قدم صحیح DIRECTION (جہت) کی طرف اٹھایا گیا ہے۔میں نے کہا، یہ صحیح ہے، یہ میں مان لیتا ہوں۔لیکن تم نے انسان سے پیار کرنا نہیں سیکھا۔کیونکہ جس کو انسان سے پیار ہوتا ہے، وہ ہیروشیما پر ایٹم بم نہیں کراتا۔معصوم بچوں، عورتوں اور بیماروں سب کو ایک ہی ہتھیار کے ساتھ آنکھیں بند کر کے آگ کے اندر بھسم کر دیا۔بھلا اس قسم کے اقدام سے انسان سے پیار کہاں ثابت ہوتا ہے؟ غرض آج دنیا میں صرف جماعت احمدیہ ہی ہے، جو انسان کو انسان سے پیار کرنے کا سبق پڑھا سکتی ہے۔اور یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔بری عادتوں کو چھوڑنا پڑے گا ، رسوم کو چھوڑنا پڑے گا۔میرا تو دل کرتا ہے ، 50 یا سو افریقن عورتوں کو بلا کر یہاں پاکستانی احمدیوں کے ساتھ شادی کروادوں اور یہاں کی لڑکیوں کی وہاں کے احمدیوں سے شادی کروا دوں۔ہمارے افریقن بھائی بڑے اچھے دل کے مالک ہیں، بڑا اچھا مزاج رکھتے ہیں۔اپنی بیویوں سے بڑا اچھا سلوک کرنے والے ہیں۔وہاں کثرت ازواج کا بڑا رواج ہے۔وہ بالعموم ایک سے زائد شادیاں کرتے ہیں۔لیکن میاں بیوی کی آپس میں کوئی تلخی نہیں ہوتی۔خاوند اپنی ساری بیویوں سے بڑا اچھا سلوک کرتا ہے۔ہمارے سنگھاٹے صاحب کی غالباً دو یا تین بیویاں ہیں۔وہ منصورہ بیگم سے ملتی رہی ہیں۔لیکن ان کے آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔میں سمجھتا ہوں کہ افریقن معمولی باتوں پر لڑ نا تو شاید جانتاہی نہیں۔نہ ہی وہ مذہبی اختلاف پر کبھی لڑتے ہیں۔اور یہ واقعی بڑی عجیب بات ہے اور بڑی ہی اچھی اور حسین کہ مذہب کے نام پر وہاں کوئی لڑائی نہیں ہوتی۔وہاں مباحثے ہوتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں، بھیج یا غلط دلائل دیئے جاتے ہیں، یہ سب کچھ ہے۔لیکن یہ کہ ڈانگ ہے، رائفل ہے، پستول ہے یا مکا ہے، یہ کوئی نہیں ہے۔چنانچہ وہاں ہماری کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ افریقن بڑے آرام سے بات سن لیتے ہیں۔میں نے آزمائش کے طور پر ملک کے عیسائیوں سے یہ کہا کہ تم اسلام کی کتابیں پڑھو، اگر نور نظر آ جائے تو پھر اسے قبول کر لینا۔مگر مجھے ایک نے بھی یہ جواب نہیں 660