تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 649 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 649

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء ملک کو مالی طور پر سپورٹ کر سکیں۔لیکن اس وقت تک یہ حال تھا کہ جتنے پیسے کمائے تھے ، وہ اس ملک میں انوسٹ کر دئیے۔ان حکومتوں کو بھی علم ہے اور عوام کو بھی اس کا علم ہے۔پھر جو میں نے ان سے پیار کیا، وہ بہت ہی زیادہ تھا۔میں نے اپنے مبلغوں سے کہا تھا کہ اب تمہارے لئے مشکل پڑ گئی ہے۔کیونکہ یہ میرے پیار کے عادی ہو گئے ہیں۔اب تم سے وہی پیار چاہیں گے ، اس لئے اس میں سستی نہ کرنا۔ہمارے مبلغ ما شاء اللہ بڑے اچھے ہیں۔ان میں سے ایک، دو نا تجربہ کار مبلغ بھی تھے ، جن کے بارہ میں، میں نے خطبہ میں ذکر کیا تھا ، وہ تو واپس آرہے ہیں۔میں نے کسی تقریر یا خطبہ میں بتایا تھا کہ زمبیا (ایسٹ افریقہ ) کے ایک وزیرلندن امیر پورٹ پر اسی کمرہ میں تھے، جس میں ہم نے جاکر انتظار کرنا تھا۔ہمارے ساتھ ہیں ، بچھپیں مقامی احباب بھی تھے۔ان کے ساتھ زمبیا کا ہائی کمشنر ( متعینہ انگلستان) اور اس کا ایک دس، بارہ سال کا بیٹا تھا۔مجھ سے دوستوں نے نوٹوں پر دستخط کروانے شروع کئے تو اس بچے کو بھی شوق پیدا ہوا تو وہ بھی میرے پاس نوٹ لے آیا۔میں نے سوچا یہ تو پیار کے بھوکے ہیں، اس کے نوٹ پر دستخط نہ کروں۔چنانچہ میں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکال کر اس پر دستخط کئے اور اسے دے دیا۔یہ تو معمولی بات تھی۔لیکن جو اصل چیز تھی ، جس کا اس وزیر پر بھی اثر ہوا، وہ میرا اس بچے کو گلے لگا کر پیار کرنا تھا۔اب چند سیکنڈ وقت خرچ ہوا۔ایک دھیلہ اس پر خرچ نہیں کیا۔پیار کا ایک اظہار ہی تو ہے۔مگر اس کا ان پر بہت اثر ہوا۔وہ وزیر اگر چہ پہلے مجھ سے مل چکے تھے مگر جب ان کے جہاز کے اڑنے کی اناؤنسمنٹ ہوئی اور جہاز میں بیٹھنے کے لئے جانے لگے تو پھر میرے پاس آگئے اور شکر یہ ادا کرنے لگے۔اور ان کا حال یہ تھا کہ ان کے ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے اور منہ سے صحیح الفاظ نہیں نکل رہے تھے کہ ہم آپ کے بڑے ممنون ہیں۔اس لئے ممنون ہیں کہ آپ نے ہمارے بچے سے پیار کیا ہے۔پس وہاں کے لوگوں کی اس قسم کی ذہنیت ہے۔اس لئے ہمیں ایسے ڈاکٹر چاہئیں، جو ان لوگوں سے پیار کرنے والے ہوں اور دعائیں کرنے والے ہوں۔چونکہ بارہ جگہ سے پیشکش آچکی ہے، اس لئے یہ بارہ ڈاکٹر تو مجھے فورا چا ہیں۔ویسے اس وقت تک ہمارے پاس پندرہ سولہ ڈاکٹروں کے نام تو آچکے ہیں۔لیکن ان میں سے اکثر نو جوان ہیں۔اگر بوڑھے نہیں جائیں گے تو پھر نو جوانوں کو بھیجنا پڑے گا۔ہمارے اگر ہزار ڈاکٹر بھی ہوں تو اس میں سے مجھے ایک سوڈاکٹر ملنا چاہیے۔وو 66 ( مطبوعه روزنامه الفضل 15 اپریل 1972ء) ضمناً ایک بات میں اور بتا دیتا ہوں کہ سکیم اپنی نہ بنائیں کہ ہمارے کندھے اس کا بوجھ برداشت ہی نہ کر سکیں۔میں نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر سعید صاحب کو شروع میں ہم نے ادویات اور آلات 649