تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 648 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 648

اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ا حضرت صاحب آئے ہوئے ہیں۔وہاں پر جو طلباء جور و سے آئے تھے، وہ بھی اپنے ساتھ سینتالیس بیعت فارم لے کر آئے تھے۔وہیں بواجے بوسے ساٹھ ستر بیعت فارم ساتھ لے کر آئے تھے۔جب میں وہاں سے واپس آ گیا تو بو کے سکول کے لڑکے استادوں کے پیچھے پڑگئے کہ آپ نے ہم پر بڑا ظلم کیا ہے۔حضرت صاحب یہاں آئے تھے اور آپ نے ہماری بیعت نہیں کروائی۔اور پھر غالبا سو بیعتیں انہوں نے بذریعہ ڈاک کروائیں۔فری ٹاؤن میں ہمارا جو سکول ہے، اس میں اس دفعہ 27 طلباء نے آخری کلاس کا امتحان دیا۔(یہ در اصل سینئر کیمبرج کے برابر ہے۔) اور جب انہوں نے یہ امتحان پاس کیا تو بلا استثناء ہر ایک نے بیعت کی اور اپنے سرٹیفیکیٹ لے کر چلے گئے۔غرض خرچ سارا حکومت کرتی ہے اور پالیسی ہماری چلتی ہے، تبلیغ ہماری ہورہی ہے۔انہوں نے ہمیں تبلیغ کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔سکول کے اساتذہ جو یہاں سے گئے ہیں، وہ بھی مبلغوں سے کم نہیں۔وہ بھی افریقنوں سے بڑا پیار کرتے ہیں۔وہ قو میں پیار کی بھوکی ہیں۔اتنی پیار کی بھوکی ہیں کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔مجھے بھی اس کا پہلے اندازہ نہیں تھا۔مجھے بھی پہلی بار اس وقت اندازہ ہوا، جب میں نے ایک افریقن بچے کواٹھا کر پیار کیا تو آٹھ ، دس ہزار کے مجمعے میں ایک ایسی خوشی کی لہر دوڑ گئی، جس کے آثار نہ صرف میری آنکھوں نے ان کے چہروں پر دیکھے بلکہ میرے کانوں نے بھی اس خوشی کو سنا۔ان کے اوپر انناز بر دست اثر ہوا کیونکہ ہمارے جانے سے پہلے وہ تو میں یہ بجھتی تھیں کہ دنیا میں کوئی قوم پیدا نہیں ہوئی، جو ہم سے پیار کر سکے۔کیونکہ انگریزوں نے Message of Love دے کر اپنے پادریوں کے بھیجا تھا، انہوں نے آکر لوگوں کے سامنے محبت کے پیغام کا پرچار کیا تھا۔مگر ان کے پیچھے ان کی تو ہیں آرہی تھیں۔میں ان سے یہ کہتا تھا کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے اعلان یہی کیا تھا کہ ہم Message of Love لے کر آئے ہیں۔لیکن ان پادریوں کی صفوں کے پیچھے غیر ملکوں کی جو فو جیں داخل ہورہی تھیں، ان کی توپوں کے مونہوں سے پھول نہیں جھڑے تھے، گولے برسے تھے۔اور مجھ سے تمہیں اس کا زیادہ پتہ ہے۔اس واسطے مجھے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔چنانچہ عیسائیوں کے اس سلوک کا ان پر بڑا شدید اثر ہے۔اور وہ بڑے سخت متنفر ہیں۔یعقو بو گوون ہیں تو عیسائی مگر وہ غیر ملکی حکومتوں کو Criticise نہیں کر رہا تھا بلکہ فارن کر چین مشن کے متعلق خود ان کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے بیا فرا کی خانہ جنگی میں ہمارے ملک کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔خدا تعالیٰ نے فضل کیا کہ ہم بچ گئے۔اور پھر ہم نے افریقہ میں جو کچھ کمایا ، وہ انہی پر خرچ کر دیا۔یہ ہوسکتا ہے کہ افریقن ملکوں کے اندر ایک دوسرے کو چلا گیا ہو۔لیکن ایسا بھی بہت کم ہوا ہے۔کیونکہ ابھی وہ اس سٹیج پر پہنچے ہیں کہ و 648