تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 644
اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم نکالنے کے بعد دو سالوں میں پانچ ، چھ ہزار پونڈ Save کر لیا۔اور یہ معین اس لئے نہیں کہ پانچ ہزار سے رقم بڑھ چکی تھی۔لیکن وہ کہتے تھے کہ آخری Balance Sheet نہیں بنی تھی۔اس لئے وہ کہتے تھے کہ میں نہیں کہہ سکتا اغلباً چھ ہزار پونڈ سے زیادہ ہے۔اور یہ بڑی رقم ہے۔دنیا کے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ہو سکتا ہے، کسی ملک میں ہمیں اپنے مشن چلانے کے لئے روپے کی ضرورت ہو۔مگر ہم باہر سے نہ بھجواسکیں۔تو اس صورت میں اگر ہمارے یہ سنٹرز ہوں گے تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہوگی۔یہی میڈیکل سنٹر ز رقم مہیا کریں گے۔کا نو میں پندرہ ہزار پونڈ سے زیادہ بچایا ہوا تھا۔جسے اسی کلینک پر خرچ کر کے ایک بہت اچھی خوبصورت بلڈنگ بنادی گئی ہے۔(ایبٹ آباد میں اس کی تصویر پڑی ہوئی ہے۔آپ دیکھتے تو بہت خوش ہوتے۔اور ابھی ایک چوتھائی کام رہتا ہے۔چند دن ہوئے، مجھے خط آیا ہے کہ اس حصے پر بھی لٹل پڑ گئے ہیں۔) وہ اچھا بڑا ہسپتال بن گیا ہے۔یہاں بہت سے ڈینٹسٹ نے وقف کیا تھا۔لیکن وہاں اس وقت تک Demand نہیں تھی۔اب وہاں سے اطلاع آئی ہے کہ اگر کوئی ڈینٹسٹ آئیں گے تو وہ بھی اچھا کام کر سکیں گے۔لیکن جو چیز بڑی ضروری ہے، وہ اخلاص ہے اور عادت دعا ہے۔اس کے بغیر تو ہمارا ڈاکٹر وہاں کام نہیں کر سکتا۔اگر ڈاکٹر میں اخلاص نہیں ہو گا تو وہ ہمارے لئے پرابلم بن جائے گا۔اگر وہ دعا گو نہیں ہوگا تو وہ اپنے مریض کے لئے پرابلم بن جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بڑا ظالم ہے، وہ طبیب جو اپنے مریض کے لئے دعا نہیں کرتا۔اور حقیقت یہی ہے۔اب ڈاکٹر عمر الدین صاحب نے لیگوس میں دو کلینک کھول لئے ہیں۔یعنی ایک تو انہوں نے کرنل یوسف والا کلینک سنبھالا تھا، ان کی وفات کے بعد اور اب بالکل شہر کے سنٹر میں غریبوں کے محلے میں ایک اور کلینک کھولا ہے۔جہاں ساتھ ہی دو اور کلینک کھل گئے ہیں۔ایک تو کسی افریقن نے کھولا ہے اور دوسرا کسی غیر ملکی غالبا لبنانی نے کھولا ہے۔یہ ہفتے میں دو دفعہ اس کلینک میں جاتے ہیں۔ان کی رپورٹ تھی کہ دوسروں کے مقابلے میں ہمارا کلینک اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقبول ہورہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اتنا فضل کر رہا ہے اور اتنا پیار کرتا ہے، جماعت سے کہ ہمیں انفرادی طور پر بھی ناشکرا بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔جماعت تو شکر گزار ہے۔لیکن کسی ایک فرد کو بھی نا شکر ابندہ نہیں بنتا چاہئے۔ہمارے مالوں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔ہم خوش ہیں۔اب ہمارے یہ بڑی عمر کے دوڈاکٹر 644