تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 637
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 28 اگست 1970ء میں ان کو کہ رہا ہوں کہ فلاں سلسلہ جو تھا، اس کی خصوصیت اور کامیابی کا راز اس چیز میں تھا۔یہ مجھے یاد نہیں رہا، مفہوم اس کا یاد ہے کہ یہ بات میں نے کہی ہے اور اس کے بعد دوسرے سلسلہ کے متعلق میں نے یہ کہا، جو فلاں سلسلہ تھا، اس کی خصوصیت اور کامیابی کا راز اس چیز میں تھا ( یہ پہلے سے مختلف تھی ) اور پھر میں نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی خصوصیت اور اس کی کامیابی کا راز ڈسپلن میں ہے، یعنی نظم وضبط اور اطاعت۔جماعت احمدیہ کی بنیاد ہی خلافت پر ہے۔اور خلافت جو ہے، اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ کسی نے بہت ہی شاندار عمارت بنائی تھی، اس نے اس کی بنیادوں کے نیچے چھ، چھ انچ ریت ڈالی۔ریت کے ذرے بڑے کمزور ہوتے ہیں لیکن اس ریت کو کچھ اس طرح باندھا کہ وہ پتھر سے زیادہ مضبوط بنی۔اور اس ساری تعمیر کا بوجھ اس نے اپنے اوپر اٹھا لیا۔اسی طرح خلافت جو ہے، اسے ریت کے ذرے سمجھ لو۔کیونکہ حقیقی طور پر خلفائے راشدین کی خلافتوں میں سے ہر خلافت کی نمایاں خصوصیت عاجزی ہے۔انہوں نے اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہی ریت کے ذروں کو اپنی قدرت کی انگلیوں میں کچھ اس طرح پکڑا کہ وہ ساتویں آسمان تک جانے والی اتنی بلند عمارت کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہو گئے۔میں خواب میں اس کو کہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی خصوصیت اور کامیابی کا راز ڈسپلن میں ہے۔میں انگریزی میں اس سے بات کر رہا ہوں۔اور پتہ نہیں بعض دفعہ یاد ہی آ جاتا ہے، (اگر یاد آ جائے تو میں اپنے رب کا بڑا ہی ممنون ہوں گا۔) میں نے بتایا ہے کہ انگریزی کے یہ فقرے اس قسم کے تھے۔یہ میری اس کیفیت میں بھی ایک اور کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔بہر حال ہمارے ساتھ تو ہمارا رب اس طرح کا پیار کرتا ہے۔اس کے بعد اگر ساری دنیا کی طاقتیں مثلاً صدر نکسن بھی ہو یا رشیا کا صدر بھی ہو ، یورپین اقوام کے سربراہ بھی ہوں یا افریقی اقوام کے سربراہ بھی ہوں، جزائر کے رہنے والوں کے پرائم منسٹر بھی ہوں، سارے مل کر بھی مجھے آکر یہ کہیں کہ ہم نے سر جوڑا اور فیصلہ کیا کہ ہم جماعت احمدیہ کو ہلاک کر دیں گے اور اسے مٹادیں گے تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر میرا جواب انہیں یہ ہوگا کہ تم افراد کے قتل پر تو قدرت رکھتے ہو، چونکہ پہلے الہی سلسلوں میں بھی یہی نظر آتا رہا ہے، اس لئے تم مجھے مار سکتے ہو، لیکن تم احمدیت کو مٹانے کے قابل کبھی نہیں ہو سکتے۔کیونکہ احمدیت خدا تعالی کی حفاظت اور اس کی امان میں ہے۔اور احمدیت کو غالب کرنے کا حکم اور فیصلہ آسمانوں پر ہو چکا ہے۔اور یہ بھی فیصلہ ہو چکا ہے کہ بتدریج ( یعنی تدریج کے مختلف دوروں میں سے گزرتی ہوئی ) احمدیت تمام دنیا پر خدمت کے طور پر غالب آئے گی۔یعنی وہ دنیا کی خادم بن جائے گی۔غالب آنے کا ہمارا یہ 637