تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 636 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 636

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہماری بلاکت کے منصوبے بنانے والی دنیا، ہر قسم کی ایذا پہنچانے کی تیاریاں کرنے والی دنیا کان کھول کر یہ سن لے کہ وہ جو مرضی ہو، کر لیں۔ہمارے دل میں اپنی نفرت اور حقارت پیدا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔اس لئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کے دلوں کو محبت اور پیار کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے کے لئے پیدا کیا ہے۔اور ہمیں یہ وعدہ دیا ہے کہ ہم اپنی اس مہم کو اور اس کوشش اور اس منصوبے میں اسی کے فضل سے، نہ اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں کامیاب ہوں گے۔اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارے راستے میں روک نہیں بن سکتی۔یہ وہ پیشگوئیاں ہیں، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ذریعہ ہمیں ملیں۔اور یہ وہ پیش خبریاں اور بشارتیں اور مسرتیں اور خوش خبریاں ہیں، جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی باتیں ہیں، انہیں سنبھال کر رکھو اور اپنے صندوقوں میں بند کر لو کہ خدا کی بات ایک دن پوری ہو کر رہے گی۔اللہ تعالیٰ ہم سے جو اپنی محبت اور پیار کا سلوک کرتا ہے، ( میں ان کو کہتا ہوں، جو ہمیں کافر سمجھتے ہیں کہ ) تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔جس دن یہ ایک نیا واقعہ ہوا اور اس کے بعد میرے پاس بیسیوں خطوط آئے اور اسی کے متعلق میں اپنے نو جوانوں کو سمجھانے کے لئے آج میں اس موضوع پر بول رہا ہوں اور اس سے پہلے بھی بولتا رہا۔ہوں کہ تمہیں کس بات کی فکر ہے؟ تم خدا کی گود میں بیٹھے ہوئے ہو۔جس دن یہ واقعہ ہوا ہے، ( یعنی اخبار میں آیا ہے، واقعہ تو پہلے ہوا ہو گا۔) مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔اس سے دو راتیں پہلے ساری رات بلا مبالغہ اللہ تعالیٰ مجھے دشمنوں کی ناکامی اور نامرادی کی خبریں دیتا رہا اور جماعت احمدیہ کی ترقی کے متعلق بتا تا رہا۔اور صبح جب میں اٹھا تو میری طبیعت میں جہاں بشاشت تھی ، وہاں میں کسی ایسے واقعہ کا انتظار بھی کر رہا تھا۔کیونکہ دودن پہلے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے تسلی دے دی ہوئی تھی۔غرض قرآن کریم کی آیات ، دوسرے الفاظ عربی میں ، اردو میں ، انگریزی میں اور ساری رات یہ سلسلہ جاری رہا۔اس خواب میں یا خواب تو نہیں کہنا چاہئے ، میری زندگی کا تو یہ پہلا تجربہ تھا لیکن ساری رات اسی طرح ہوتا رہا۔کچھ دیر کے لئے دماغ غائب ہو جاتا، پھر وہ سلسلہ شروع ہو جاتا تھا اور پورا بیدار ہو جاتا تھا۔میں کسی سے باتیں کر رہا ہوں اور انگریزی میں بول رہا ہوں۔اور میں تین سلسلوں کے متعلق بات کر رہا ہوں اور وہ فقرے ایسے ہیں کہ انسان خود نہیں بنا سکتا۔یعنی اس حالت میں بھی میرے اوپر وجد کی کیفیت طاری ہے۔اور سوائے ایک لفظ کے باقی الفاظ یاد نہیں رہے، مجھے اس کا دکھ ہے۔قرآن کریم کی جو آیات ہیں، ان کا تو تلاوت کے وقت مجھے پتہ لگ جائے گا، اگر چہ میں اس وقت بھولا ہوا ہوں اور وہ آخری پانچ پاروں ہی سے ہیں۔بہر حال 636