تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 631
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 128 اگست 1970ء طاقت میں نہ ہو۔اور پھر دیکھو کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ نتیجہ وہی نکلے گا، جو میرے خدا نے مجھے بتایا ہے۔وہ نتیجہ نہیں نکلے گا، جو تمہارے منصوبے، تمہارے دل میں خواہش پیدا کریں گے۔پس غیب کا تعلق مستقبل سے بھی ہے اور اس وقت اسی کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔مستقبل کے متعلق جو غیب ہے، وہ پھر ہزاروں شاخوں میں آگے بٹاہوا اور تقسیم ہے۔لیکن مستقبل کے جس غیب کا جماعت احمدیہ سے تعلق ہے، وہ غیب ہے۔جو بشارتوں کے رنگ میں ہمیں دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو دہرایا ہے، نئے وعدے نہیں، اصل وعدے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہم تک پہنچائے گئے ہیں۔لیکن نئے حالات میں جن نئی شکلوں میں انہوں نے ظاہر ہونا تھا، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں بتائے گئے ہیں۔قرآن کریم میں یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ (ال عمران: 140) ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے، غالب آؤ گے۔ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کرو گے، ملعونی قومیں بھی تم پر غالب آجایا کریں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قرآن کریم کا یہی وعدہ دیا گیا ہے۔لیکن اس بشارت کے ساتھ کہ وہاں جوشرط لگائی تھی یعنی اِن كُنتُمْ مُؤْمِنِینَ کی ، جماعت احمدیہ کا بڑا حصہ اس شرط کو پورا کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ فرمایا گیا کہ شرط نہیں، میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تمہاری جماعت ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گی اور میری بشارتوں کی وارث ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا:۔اللَّهُ يُعْلِينَا وَ لَا تُعَلى اللہ ہم کو غالب کرے گا اور ہم پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔قرآن کریم کی شرط تو نہیں مٹائی جا سکتی۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو ان كُنتُم مُّؤْمِنِینَ کی شرط پوری ہو رہی تھی۔مگر پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مسلمانوں نے اس شرط کو پورا نہیں کیا اور وہ بشارتوں کے وارث نہیں بنے۔اللہ تعالیٰ نے اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا کہ تمہیں جو جماعت دی جارہی ہے ، وہ اس شرط کو پورا کرنے والی ہے۔اس واسطے یہ اعلان کر دو کہ 631