تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 621
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 جولائی 1970ء درخت کا پھل پک جائے، جو خود بخود نہیں گرا کرتا، یعنی ٹپکا نہیں ہوتا۔بعض ایسے درخت ہوتے ہیں، جس کا پھل پکا نہیں ہوتا ، آم تو ٹپک پڑتا ہے۔بعض پھل پکنے کے بعد بھی درخت کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔تو جو دس فٹ اوپر پھل ہے اور پک جاتا ہے، اس کو توڑنا انسان کا کام ہے۔پھل پک چکا ہے لیکن گرے گا نہیں۔جس طرح میں نے افریقنوں کو کہا تھا، ایک مضمون کے سلسلہ میں آپ کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کی کامیابی کے جو مختلف دور ہیں اور جن مدارج میں سے ہم نے گزرنا ہے۔سیڑھی یہ سیڑھی چڑھ کر بہت عظیم انقلاب ہمارے سامنے ہے۔مقدر ہو چکا ہے۔لیکن اس Destiny ( ڈسٹی ) اس تقدیر کا پھل ہم نے توڑنا ہے۔ہماری گود میں نہیں گرے گا۔پھل تیار ہے۔رفعتوں کو آپ حاصل کریں اور پھل کو پالیں۔اثَاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ خدانخواستہ ہماری ذہنیت ہو تو جو بلندیوں میں پھل تمہارا انتظار کر رہا ہے، زمین پر گر جانا یاز مین کے ہو جانے سے وہ پھل تمہیں نہیں مل سکتا۔ایسا نہ کبھی ہوا، نہ ہو سکتا ہے اور نہ بھی ہوگا۔تو جو چیز تمہارے لئے مقدر ہو چکی ہے، اس کے حصول کے لئے انتہائی کوششیں کرو۔اور اللہ کے انتہائی فضلوں کو حاصل کرو۔خدا آپ کو بھی اور مجھے بھی اس کی توفیق عطا کرے“۔( اللهم امین) از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ ) 621