تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 46
خطبه جمعه فرمودہ 25 مارچ 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بہت بلند مقام حاصل کر لے، جو اس نے حاصل کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑی کثرت کے ساتھ مادی اسباب دیئے۔اور اس وقت دنیا کی دیگر بڑی اقوام میں سے چوٹی کی ایک قوم سمجھی جاتی ہے۔بلکہ وہ اتنی زبر دست ہے کہ جب وہ غرائے تو تمام بنی نوع انسان کے دل دہل جاتے ہیں۔اس شخص کے دل سے بھی زیادہ جو جنگل میں جا رہا ہو اور اچانک اسے شیر کے غرانے کی آواز آئے۔لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اسے دین کی آنکھ عطا نہیں کی۔وہ (نعوذ باللہ ) خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کے نام کا مذاق اڑاتی ہے۔بلکہ وہ یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ تمام دنیا سے خدا تعالیٰ کے نام کو ایک دن مٹادیں گے۔پھر اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی شخص اس کے ملک میں جائے اور خدائے واحد سے انہیں متعارف کرائے۔حقیقتاً یہ اجازت نہ دینا بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کا ایک ثبوت ہے۔اگر واقعی خدا نہ ہوتا تو انہیں کس بات کا ڈر تھا ؟ وہ ہر ایک کو کہتے یہاں آؤ اور جو دلیلیں تمہارے پاس ہیں، وہ ہمیں سناؤ۔ہمیں ان دلیلوں کے سننے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔کیونکہ ان کے زعم میں خدا تعالیٰ کے نہ ہونے کے جو دلائل ان کے پاس ہیں، وہ ان دلائل سے کہیں زیادہ وزن رکھتے ہیں، جو ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے دیئے جاسکتے ہیں۔بہر حال وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی شخص وہاں جا کر خدائے واحد و یگانہ کی تبلیغ کرے۔اسلام کی اشاعت کے لئے کوشش کرے۔خدا تعالیٰ کی عظمت ، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کو اس ملک کے باشندوں کے دلوں میں بٹھانے کے لئے سعی کرے۔اور ہمارا یہ دعوی ہے کہ ہم نے اس ملک کو بھی حلقہ بگوش اسلام کرانا ہے۔پھر چین کولو۔چین کتنا بڑا ملک ہے، زمین کے پھیلاؤ کے لحاظ سے بھی اور آبادی کے لحاظ سے بھی۔اس کی آبادی قریباً 80, 70 کروڑ کی ہے۔اس کے رہنے والے بھی کمیونسٹ ہو گئے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو بھول گئے ہیں، اپنے پیدا کرنے والے کے خلاف ہو گئے ہیں۔ابلیس نے تو اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار نہیں کیا تھا۔اس نے صرف اباء اور استکبار سے کام لیا تھا۔اس نے خدا تعالیٰ کے وجود کو مانتے ہوئے ، اسے یہ درخواست کی تھی کہ مجھے اس بات کی اجازت دی جائے کہ میں تیرے بندوں کو قیامت تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں۔مجھے اس بات سے زبردستی نہ روکا جائے۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا نظام انسان کے لئے قائم کرنا تھا، اس لئے اس نے اسے اجازت دے دی اور کہا ٹھیک ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ انسان آزادانہ طور پر ہمارا عرفان حاصل کرے، ہم سے تعلق پیدا کرے۔اس لئے تم سے جو ہو سکتا ہے، کرو۔لیکن جو میرے مخلص بندے ہوں گے، ان پر تمہارا کوئی اثر نہیں ہوگا۔غرض 46