تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 595 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 595

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1970ء ہائر سیکنڈری سکول میں 350 یا 360 سے زیادہ لڑ کے داخل نہیں کئے جائیں گے چنانچہ اس کا اعلان کر دیا۔گیا۔لوگوں نے شور مچادیا کہ حکومت کا یہ قانون احمد یہ سکولوں پر لاگو نہ کیا جائے۔چنانچہ حکومت کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہمارا یہ قانون احمد یہ سکولوں پر نہیں لگے گا۔اور حد مقرر ہوئی ہے، تقریباً ساڑھے تین سو کی۔اور فری ٹاؤن کے ہیڈ ماسٹر پر زور دے رہے ہیں کہ اس Admission ( داخلہ ) کے وقت ، جو غالبا یہاں کی طرح ستمبر، اکتوبر میں ہوتی ہے، ساڑھے چھ سولر کا داخل کرو، ورنہ لوگ ہمیں تنگ کریں گے۔اور اس کے لئے انتظام کرو۔سٹاف جتنا چاہئے ، وہ لو اور کمرے بنوانے کی ضرورت ہو تو کمرے بنواؤ۔پیسے تو وہاں کی حکومت ہی دیتی ہے یا جو ہم Save ( بچت) کرتے ہیں، وہ وہاں لگا دیتے ہیں۔لیکن اس کا بہت بڑا بار جو ہے، وہ حکومت خود اٹھا لیتی ہے۔یعنی ہمارا اپنا سکول ہے ، ہم وہاں تبلیغ کر رہے ہیں اور وہاں اسلام کے غلبہ کے لئے نوجوان نسل کو تیاری کروارہے ہیں۔خرج حکومت دے رہی ہے اور پھر ساتھ ممنون بھی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ہمارے ماڈل سکول ہیں۔ایک پیراماؤنٹ چیف ( یعنی علاقے کا رئیس آپ سمجھ لیں) کا بچہ پڑھتا نہیں ہو گا، اسے کہا کہ اگر تم مڈل میں اچھے نمبر لے کر پاس ہو گئے تو تمہیں ہائر سیکنڈری سکول میں داخل کروا دوں گا۔اسی سال کی بات ہے کہ اس نے امتحان دیا ہوا ہے۔پتہ نہیں نتیجہ نکلا ہے یانہیں؟ ایک دن وہ اپنے باپ سے کہنے لگا کہ ابا آپ کو یاد ہے ، آپ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ اگر میں اچھے نمبر لے کر پاس ہو گیا تو آپ مجھے ہائر سکینڈری سکول میں تعلیم دلوائیں گے۔انہوں نے کہا، ہاں، مجھے یاد ہے۔کہنے لگا کہ پھر یاد رکھیں میں احمدیہ میں داخل ہوں گا۔اور کسی سکول میں داخل نہیں ہوں گا۔وہاں ہمارے سکول احمد یہ سکول نہیں کہلاتے بلکہ عام محاورے کے لحاظ سے صرف احمدیہ کہلاتے ہیں۔اس کا یہ کہنا کہ میں احمدیہ میں داخل ہوں گا، کسی اور سکول میں داخل نہیں ہوں گا، اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے سکولوں کی بڑی مقبولیت ہے۔اگلی نسل کے دلوں میں بھی اور بڑوں کے دلوں میں بھی۔میں نے بتایا ہے کہ وزراء سفارشیں لے کر جاتے ہیں اور یہ تو ان کے معاشرہ کے حسین ہونے کی دلیل ہے۔یعنی ایک وزیر اور سکول کے ایک پرنسپل میں کوئی فرق نہیں۔یہاں تو میرے خیال میں کسی وزیر صاحب کے پاس جانا آسان نہیں۔اب تو مارشل لاء ہے، سول حکومت آئے گی تو دیکھیں گے ، وہ کیا کرتی ہے؟ پہلی سول حکومتیں تو یہی کیا کرتی تھیں کہ وہ سکول کے ہیڈ ماسٹر کو ملاقات کا وقت تو کیا بڑے اچھے اچھے کانجوں کے پرنسپل کو بھی ملنے کے لئے کئی دن دھکے کھانے پڑتے تھے۔یہ ہماری تصویر ہے اور ان کی تصویر 595