تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 593 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 593

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1970ء رواج ہے۔بلکہ ہماری طرح وہ طرہ دار پگڑیاں پہنتے ہیں۔وہاں ہمارا عربی کا ایک ٹرینگ سکول بھی ہے اور اس جماعت نے سکول کے لئے زمین کا ایک بہت بڑا قطعہ بھی دیا ہے۔میں نے ان کو لکھا ہے کہ میں کلینک بھی بنواؤں گا، اس کے لئے مجھے رپورٹ کرو۔اب یہ حالات ہیں۔بعض دفعہ میں اس وجہ سے پریشان ہو جاتا ہوں۔یہ پریشانی میرے لئے ہے، اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ویسے اللہ تعالیٰ کے وہاں بھی فضل دیکھے، یہاں بھی فضل دیکھے۔آپ کے دلوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے یوں اپنے قبضہ میں لیا اور اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دیئے۔پریشانی اس طرح ہوتی ہے کہ ہماری بات، ہمارے حالات وہاں پہنچنے میں بعض دفعہ مہینہ لگ جاتا ہے اور وہاں بہت ساری جگہوں میں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ مثلاً پاکستان اور انگلستان میں کیا ہو رہا ہے؟ وہ مجھے ڈر ڈر کر لکھتے ہیں کہ یہاں فلاں جگہ بھی ہسپتال کھل سکتا ہے، فلاں جگہ بھی سکول کھل سکتا ہے ، آدمیوں کا انتظام، اور یہ، اور وہ۔انہیں یہ خیال ہے کہ شاید پیسے نہ ہوں، انتظام نہ ہو سکے، شاید آدمی میسر نہ آئیں۔میں انہیں خط لکھ رہا ہوں ، پتہ نہیں کتنے دنوں کے بعد انہیں پہنچتا ہے؟ ( ہمارے اپنے بعض خطوط 25, 20 دن تک بھی وہاں نہیں پہنچے تھے۔بعد میں چکر لگا کر ہمارے پاس یہاں پہنچے ہیں۔ان کو میں نے لکھ بھیجا ہے کہ میرے پاس سب کچھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے روپیہ بھی دے دیا ہے، آدمی بھی دے دیتے ہیں۔تم دوڑنے کی بھی کوشش کرو، اب چلنا ہمارے لئے کافی نہیں۔اب دوڑنے کا وقت آ گیا ہے۔پس میں یہ چاہتا ہوں اور آپ سے بھی یہ توقع رکھتا ہوں کہ آپ بھی میری اس دعا میں اپنی دعاؤں کو شامل کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ سامان پیدا کر دے کہ سال، ڈیڑھ سال کے اندر کم از کم 30 میڈیکل کلینک وہاں ان ملکوں میں کھول دیئے جائیں۔اس لئے کہ میڈیکل سنٹر یا ہیلتھ سنٹر جو ہے، وہ ہمارے کام کرنے کی دراصل بنیاد بنتا ہے۔ہر ایک کلینک اوسطاً اڑہائی ہزار پاؤنڈ سالانہ کما رہا ہے۔یعنی سارے اخراجات کے بعد اتنی سیونگ ہو رہی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں ہمارے چار سنٹر ہیں ، وہاں دس ہزار پاؤنڈ کی سیونگ ہوتی ہے۔پھر ہمیں یہ فکر نہیں رہتی کہ دنیا کے حالات بدل رہے ہیں۔بہت سارے ملکوں میں آزادی تھی کہ اس ملک کی کرنسی جہاں اور جتنی مرضی ہو، باہر بھیج دو۔مگر اب وہ پابندیاں لگارہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ایک اور عالمگیر جنگ، جواس وقت Horizon ( ہوریزن ) پر نظر آ رہی ہے، اس کی وجہ سے کوئی ایسا وقت آ جائے کہ ہم باہر سے ایک پیسہ بھی وہاں بھجوانہ سکیں۔اس لئے ان ملکوں میں ہماری آمد کے ذرائع پیدا ہونے چاہئیں۔اور یہ تو ہم خرما وہم ثواب والی 593