تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 592 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 592

خطبہ جمعہ فرموده 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم قصبوں کے 40 سے زیادہ آدمیوں نے بیعت کر لی۔وہاں احمدیت کی طرف بڑا رجحان پیدا ہو گیا ہے۔اور بھی کئی جگہ سے رپورٹیں آئی ہیں۔مثلاً سیرالیون میں بھی پانچ نئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔یہ بھی رپورٹ آئی ہے کہ نارتھ کے علاقے میں بہت توجہ پیدا ہوگئی ہے۔امید ہے، وہاں بھی بہت سی نئی جماعتیں قائم ہو جائیں گی۔وہاں وہی کچھ ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہاں شروع میں کیا تھا۔اب تو ہم اسلام آباد میں بھی ماشاء اللہ بہت سے احمدی بیٹھے ہیں۔بدر کے وقت مسلمانوں کی جو تعداد تھی، کام کرنے والوں کی، اس سے زیادہ ماشاء اللہ صرف اسلام آباد کی تعداد ہے۔لیکن شروع میں پہلے ابتداء اس طرح کی اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت معلوم ہوتی ہے کہ کہیں ایک گھر احمدی ہو گیا، کہیں دو گھر احمدی ہو گئے۔پھر انہوں نے ماریں کھائیں، انہیں جو تیاں پڑیں ، گالیاں دی گئیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی آگ میں سے گزارا۔اور ہر آگ، جو ان کے لیے جلائی جاتی تھی ، ان کے کان میں اللہ تعالیٰ کی یہ پیاری آواز آتی تھی کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ ، آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔غرض حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین روحانی فرزند کے غلاموں کو سینکڑوں بلکہ لاکھوں دفعہ آگ میں سے گزرنا پڑا۔اور وہ آگ ان کے لئے پھول بن گئی۔ان کے جلانے کا باعث نہیں بنی۔وہاں مجھے ایک دن خیال آیا۔میں نے سیرالیون کا نقشہ سامنے رکھا اور وہاں ہمارے جو دو، تین مبلغ ہیں، ان سے میں نے کہا کہ جہاں جہاں احمدی ہیں، وہ جگہیں مجھے بتاؤ۔تاکہ میں نقشے پر نشان کروں۔چنانچہ انہوں نے سر جوڑا۔کوئی آدھے، پونے گھنٹے کے بعد انہوں نے مجھے مختلف جگہوں کے نام بتائے۔میں نے ان پر نشان لگا دیئے اور اس کے گھنٹے ، دو گھنٹے بعد جماعت سے ملاقات تھی۔میں ان سے پوچھتا تھا، آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟ اگر چہ سارے نام تو حافظے میں یاد نہیں رہ سکتے تھے ، پھر نام بھی غیر ملکی تھے لیکن میں نے اندازہ لگایا کہ یہ بیسیوں ایسی جماعتوں کے نام بتارہے ہیں، جو مبلغوں نے مجھے نقشے پر نہیں بتائے تھے۔اور پھر یہ جماعتیں یوں بکھری ہوئی ہیں، جس طرح 20 ہزارفٹ کی بلندی سے گندم کے دانے ہوائی جہاز سے پھینکے جائیں تو وہ مختلف جگہوں میں بکھر جاتے ہیں۔اسی طرح وہاں ہماری جماعت بھی بکھری ہوئی ہے۔بالکل بارڈر تک یوں ہر جگہ ایک چکر لگا ہوا ہے، جماعتوں کا۔کہیں کم ہیں اور کہیں زیادہ ہیں۔لیکن ہر جگہ پہنچے ہوئے ہیں۔اب غانا میں وا کی ہماری بڑی مخلص پگڑیاں پہننے والی جماعت ہے۔وہ جماعت احمدیہ کی وجہ سے پگڑیاں نہیں پہنتے۔بلکہ اس علاقہ میں پہلے سے پگڑیاں پہنے کا 592