تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 587 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 587

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود 10 جولائی 1970ء ہو سکتے۔یا احمدی مسلمان نہیں ہوتے۔ہر ایک نے یہی کہا ٹھیک ہے، ہم سوچیں گے اور غور کریں گے اور پھر احمد بیت اور اسلام کو قبول کر لیں گے۔ہم نے ان کے اوپر پیار کا ہاتھ رکھا ہے۔اور پیار کی لمس لمس جو ہے، اس کے وہ عادی ہو چکے ہیں۔دوسروں کو وہ دیکھتے ہیں کہ یہ کتنا پیار کرتے ہیں۔ہمارے مبلغوں کی رپورٹ کے مطابق افریقن یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ دنیا میں کوئی ایسی قوم بھی پیدا ہو سکتی ہے، جو ان کے بچوں کو پیار کرے۔اور میں نے وہاں ہزاروں بچوں کو اٹھایا ، ان سے پیار کیا۔ویسے پانچ ، سات سال کے جو تھے، انہیں بغیر اٹھائے جھک کر پیار کیا۔یہ دیکھ کر ان کی عجیب حالت ہوتی تھی۔ایک قسم کے مست ہو جاتے تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ خیر وہاں جو ہوا ، وہ تو ہوا۔مشرقی افریقہ کے ایک ملک زمبیا کے ایک وزیر انگلستان میں کسی کامن ویلتھ کا نفرنس کو Attend ( اٹنڈ) کرنے آئے ہوئے تھے۔جس روز ہم وہاں سے پاکستان کے لئے روانہ ہورہے تھے، اسی روز انہوں نے بھی روانہ ہونا تھا۔اور اتفاق کی بات ہے کہ اسی کمرہ میں وہ بھی اپنے جہاز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے، جہاں ہم نے بھی اپنے جہاز کے انتظار میں بیٹھنا تھا۔ان کے ساتھ زمبیا کے ہائی کمشنر اور ان کا آٹھ ، دس سال کا ایک بچہ بھی تھا۔چنانچہ انہوں نے کہا، ہم ملنا چاہتے ہیں۔میں ان سے ملا اور پانچ ، سات منٹ تک ان کے ساتھ باتیں کیں۔پھر وہ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ایک احمدی دوست کو خیال آیا، وہ ایک پاؤنڈ کا نوٹ لے کر میرے پاس آ گیا کہ اس پر دستخط کر دیں، میں اسے اپنے پاس یادگار کے طور پر رکھوں گا۔پھر اسے دیکھ کر ایک دوسرا آ گیا۔اسی طرح آٹھویں دسویں نوٹ پر دستخط کر کے جب میں نے سراٹھایا تو وہ آٹھ ، دس سال کا حبشی بچہ ہاتھ میں نوٹ لے کر دستخط کروانے کے لئے کھڑا تھا۔اس کو خیال آیا یا وزیر کو خیال آیا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کا ان کو ایک نشان دکھانا تھا اور ایسے سامان پیدا کر دیے۔مجھے خیال آیا کہ یہ غیر ملکی یہاں میرا مہمان ہی ہے۔ہماری تو ساری دنیا مہمان ہے نا۔اس لئے میں اس کے نوٹ کی بجائے اپنے نوٹ پر دستخط کر دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا اور اس پر دستخط کر کے اسے پکڑا دیا۔یہ تو بالکل معمولی بات تھی۔پھر کھڑا ہوا اور میں نے اس بچے کو گلے لیا اور اس کو پیار کیا۔ان کے جہاز نے پہلے جانا تھا۔اور جب اعلان ہوا کہ اس ہوائی جہاز کے مسافر آ کر ہوائی جہاز میں بیٹھ جائیں تو وہ کھڑے ہوئے اور میرے پاس آگئے۔میں بھی کھڑے ہو کر ان سے ملا۔اس وزیر کا یہ حال تھا کہ میرا شکر یہ ادا کرتے ہوئے ، اس کے ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے۔وہ اتنا جذباتی ہوا تھا۔اس نے کہا، ہم آپ کے زیر احسان اور بہت زیادہ ممنون ہیں۔پتہ نہیں اور کیا 587