تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 586 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 586

خطبہ جمعہ فرمود : 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کا جو حق تھا، وہ میں نے انہیں دے دیا۔اس واسطے میں نے کیا احسان کیا ؟ میں سوچا کرتا تھا کہ میں بچوں کو جو پیار کرتا تھا، یہ ان کا حق تھا۔میں ان کو دے رہا ہوتا تھا۔اب پیار پر نہ دھیلہ خرچ ہو، نہ وقت خرچ ہو۔لیکن اتنا اثر ہوتا تھا کہ اگر آپ لاکھ روپیہ خرچ کر دیں تو اس کا شاید اتنا اثر نہیں ہوگا۔وہ پیار کے بھوکے ہیں۔کیونکہ وہ صدیوں پیار کی آواز میں گم ہو کر غیر ملکوں کی توپوں کا نشانہ بن گئے تھے۔میں نے بہت سے عیسائیوں کو کہا کہ میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں (ضمناً میں یہ بتادوں کہ جو سچ ہے، اسے بہر حال تسلیم کرنا چاہئے۔جو امر واقعہ ہے، اس کو چھپانے کی ضرورت نہیں۔غرض میں نے ان سے کہا ) کہ جب تمہارے ملکوں میں عیسائی پادری داخل ہوئے تو انہوں نے یہی نعرہ لگایا تھا کہ ہم عیسائیت کی محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں۔لیکن ان کے پیچھے پیچھے ان ممالک کی جہاں سے وہ آئے تھے، فوجیں تمہارے ملکوں میں داخل ہوئیں، توپ خانے لے کر۔گوان تو پوں کے مونہوں سے پھول نہیں جھڑتے تھے بلکہ گولے نکلے تھے۔اور پھر جس طرح ان ملکوں نے تمہیں Expliol (ایکسپلائٹ ) کیا اور پھر جس طرح تمہیں تباہ کیا، اس کے متعلق مجھے کہنے کی ضرورت نہیں۔تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔کیونکہ تم صدیوں سے اس ظلم کا شکار بنے رہے ہو۔اب میں محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں۔لیکن میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ ہم قریباً پچاس سال سے تمہارے ویسٹ افریقہ میں کام کر رہے ہیں۔اور اس عرصہ میں ہم نے کبھی تمہاری سیاست میں دلچسپی نہیں لی۔اور کبھی تمہاری دولت پر حریصانہ نگاہ نہیں ڈالی۔ہم نے یہاں بہت کچھ کمایا، جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔ہمارے کلینک وہاں بہت کماتے ہیں۔کانو میں ہمارے کلینک کے پاس پندرہ ہزار پاؤنڈ زیادہ جمع ہو گیا تھا۔ڈیڑھ ، دو سال ہوئے ، انہیں یہاں مرکز سے ہدایت کی گئی کہ اس رقم کو اسی ہسپتال کی عمارت پر خرچ کر دو۔پہلے وہ کلینک تھا ، اب ایک نہایت شاندار ہسپتال بن گیا ہے۔چنانچہ اسی طرح کی بیسیوں مثالیں ہیں۔ہم نے ایک دھیلہ ان ملکوں سے باہر نہیں نکالا۔میرے خیال میں اس وقت تک لاکھوں پاؤنڈ باہر سے لے جا کر ان ملکوں میں خرچ کر چکے ہیں۔وہاں کی حکومتوں کو بھی اس کا علم ہے اور وہاں کے عوام کو بھی اس کا علم ہے۔پس میں نے کہا کہ ہم پچاس سال سے تمہارے پاس ہیں اور جو بھی یہاں کمایا ، وہ تم پر خرچ کر دیا۔باہر سے جو کچھ لائے ، وہ بھی تم پر خرچ کر دیا۔ہم نے تمہیں سچا اور حقیقی پیار دیا۔اور اس کے متعلق تم سب کچھ جانتے ہو۔اور یہ چیز ان پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی تھی۔میں ان سب ملکوں میں اپنی طرف سے بعض چیزیں امتحانا کیا کرتا تھا۔ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ میں انہیں کہتا تھا تم سوچو اور مسلمان ہو جاؤ۔مگر کسی ایک نے مجھے یہ نہیں کہا کہ نہیں ، ہم مسلمان نہیں 586