تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 581 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 581

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود 10 جولائی 1970ء ہے کہ تم نے بیا فرا کو ویسے تو جنگ کے ذریعہ جیت لیا ہے لیکن ان کے دلوں کو جیتنا ابھی باقی ہے۔اس لئے کوئی Heat generate (ہیٹ جنریٹ نہیں ہونی چاہئے۔ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ان کے ساتھ پیار کا معاملہ کرو۔چنانچہ اس نے میری اس نصیحت کو بڑی بشاشت سے سنا اور مجھے کہنے لگا کہ مجھے اس وقت کا خود بھی خیال ہے۔میں ان سے یہی سلوک کروں گا۔وہ میرا بڑا ممنون تھا۔چونکہ ان کا معاشرہ بہت سے گندوں سے محفوظ ہے، اس لئے آپ کو ہنستے کھیلتے چہرے نظر آئیں گے، بڑے ہشاش بشاش، کوئی شکایت نہیں، کوئی Discontentment ) بے اطمینانی ) نہیں، کوئی بد دلی نہیں، کوئی اداسی نہیں، کوئی یہ خیال نہیں کہ انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے۔آپس میں ایک دوسرے کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔اور یہی پیغام میں لے کر گیا تھا۔اس واسطے ان کو اس نے اپیل کیا۔میں نے ایک دن انہیں یہ بھی کہا کہ میں آج تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ تمہاری عزت اور احترام کا دن طلوع ہو چکا ہے۔اب دنیا تمہیں نفرت اور حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی۔میرے ذہن میں تو یہ تھا کہ ان کی عزت اور احترام کو قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا۔اس لحاظ سے ہم ان کے محافظ ہیں ان کی عزت و احترام کے، اور ہم محافظ ہیں ان کی جانوں اور مالوں کے، اور ہم محافظ ہیں شیطانی یلغاروں سے انہیں بچانے کے۔یعنی شیطان سے بچانے کا جو کام ہے، وہ ہمارے سپرد ہے۔اور جو ان کی ضرورتیں ہیں، وہ حتی الوسع ہم نے پوری کرنی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے میں سمجھتا ہوں، اس وقت کے حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ کے علم سے یہ اعلان کیا تھا کہ افریقہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے محفوظ رکھا ہوا ہے۔اور یہ اب نظر آ رہا ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو نبا ہیں تو وہ لوگ بہت جلد اسلام کو ، احمدیت کو قبول کر لیں گے۔اور پھر اللہ تعالی ہمیں توفیق دے گا Sweet revengc ( سویٹ ریوینج) کی۔میں آپ کو کہتا تھا، ہم نے ایک حسین انتقام ظالموں سے لینا ہے۔وہاں ہمارے عبد الوہاب ہیں، جامعہ سے پڑھ کر گئے ہیں۔بڑے مخلص اور بڑے مستعد اور ہمت والے مبلغ ہیں۔وہ نہایت اچھا کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بیوی بھی بڑی اچھی دی ہے۔اس کے دل میں بھی اسلام کا درد اور احمدیت کا پیار ہے۔وہ سارا دن بچے اور بچیوں کو قرآن کریم پڑھانے میں مشغول رہتی ہیں۔ان کے علاقے میں جاکر اور یہ حالات دیکھ کر مجھے بہت ہی خوشی ہوئی۔میں نے عبدالوہاب سے کہا کہ تیار ہو جاؤ، ہمارے حسین انتقام کے دن قریب آرہے ہیں۔اور میں نے وہاں اعلان کر دیا کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں زندہ رہا تو میں یا میرے بعد جو بھی ہو 581