تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 580
خطبہ جمعہ فرمود : 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو بعض دفعہ Discontentment ( بے اطمینانی ) اور بد دلی ہمیں یہاں نظر آتی ہے، وہاں یہ نظر نہیں آتی۔بڑا عجیب نظارہ ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ایک دن بہت مصروف پروگرام تھا۔ہم نے ایک جگہ سے دوسری جگہ موٹروں پر جانا تھا۔میں نے دوستوں سے کہا کہ ایک تو پیار ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، دوسرے مسکراہٹ کا جواب ہمیشہ مسکراہٹ سے ملتا ہے۔اور میں آج یہ کرتا رہا ہوں۔میرا اندازہ یہ ہے کہ میں نے لیگوس کے باشندوں سے کم از کم پچاس ہزار مسکراہٹیں وصول کیں۔اور کسی جگہ میں نے مایوسی افسردگی اور بے زاری یا Discontentment ( بے اطمینانی ) نہیں پائی۔وہ سب بڑے خوش اور ہشاش بشاش دکھائی دیتے تھے۔حالانکہ وہ ابھی سول وار جیت کر ہٹے تھے۔اس کے سکار ز کہیں تو نظر آنے چاہئے تھے۔مگر کہیں بھی نظر نہیں آئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب امیر اور غریب ایسے ہوں کہ ان کے رہن سہن میں زیادہ فرق نہ ہو، ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار نہ ہو، تکبر اور غرور نہ ہو تو وہ قوم خوشی اور بشاشت کی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز پر بھی استقامت بخشے اور باہر کے غیر ملکی گندے اثرات ان کے معاشرہ کو گندا کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔جیسا کہ نائیجیر یا کوتباہ کرنے کے لئے کوششیں کی گئی تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں مفسد دنیا کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔جب میں یعقو بو گوون سے ملا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر کچھ ایسا تصرف کیا تھا کہ وہ میرے ساتھ نصف گھنٹے تک اس طرح بیٹھا رہا کہ جس طرح اس کے گھر کا ایک فرد ہو۔وہ بڑی بے تکلفی سے باتیں کرتا رہا۔امریکن اور یور بین اقوام، جو وہاں فساد پیدا کرنا چاہتی تھیں ، وہ ان پر جو تنقید کر رہا تھا ، وہ تو کرہی رہا تھا۔مجھے اس نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی عیسائی مشنز ( خود وہ عیسائی ہے) نے پورا زور لگایا کہ ہمارے ملک کو تباہ کر دیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا، ہمارا ملک تباہ ہونے سے بچ گیا۔میں نے اس سے کہا کہ تمہاری قدر میرے دل میں اس لئے بھی ہے (ویسے میں نے اس کے متعلق اور بھی بہت سی معلومات حاصل کی تھیں، وہ بڑے ہی اچھے دل کا مالک ہے ) کہ میں پورے غور سے عوام کو سڑکوں اور دکانوں کے سامنے دیکھتا رہاہوں مگر میں نے کسی جگہ بھی یہ محسوس نہیں کیا کہ تمہاری خانہ جنگی کا قوم پر کوئی اثر ہو۔ویسے تو وہ ہر ایک کا خیال رکھتا ہے، اس کی حالت یہ تھی کہ میں نے اسے یہ کہا کہ دیکھو! تم نے سول وار جیتی ہے اور یور بین اقوام کی مخالفت اور مداخلت کے باوجود جیتی ہے، یہ تمہارا بڑا کارنامہ ہے۔تمہارے کندھوں پر بڑا بوجھ پڑا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اور ضروری اور مشکل کام اب تمہیں کرتا ہے اور وہ یہ 580