تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 573 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 573

تحریک جدید- ایک البمی تحریک۔۔۔جلد چہارم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 جولائی 1970ء ہیں کہ وہ میرے قریب آ کر بیٹھ گئی اور تین گھنٹے تک خاموشی سے بیٹھی رہی۔یہاں تک کہ اس نے اپنی ٹانگ بھی نہیں ہلائی اور جلسہ کی کاروائی کو بڑی توجہ سے سنتی رہی۔حالانکہ اسے کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا۔بچپن آخر اس کا بھی ہے۔صرف ہمارے بچوں کا بچپن تو نہیں ہوتا۔چنانچہ بچپن کی عمر نے بھی کوئی جوش نہیں دکھایا۔وہ ہلی تک نہیں۔بلکہ ساتھ بیٹھی ہوئی عورت نے اسے کہا بھی کہ تم تھک گئی ہوگی ، اپنی ٹانگوں کو ہلا ؤ جلاؤ مگر اس نے سنی ان سنی کر دی اور اسی طرح بیٹھی رہی۔پس اس قسم کے نیچے وہاں پیدا ہور ہے ہیں۔وہاں ہمارے سکولوں میں عجیب ڈسپلن ہے۔انہیں دیکھ کر رشک آتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ زیادہ ڈسپلن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سکولوں میں پیدا ہوا ہے۔لیکن اس ڈسپلن کو قبول کرنے والے تو وہی افریقن ہی ہیں۔وہ تعلیم میں بڑے اچھے جارہے ہیں۔مجھے بھی بعض موقعوں پر یہ نہیں کہ میں نے ان میں کوئی نقص دیکھا۔) یہ بات کہنی پڑتی تھی کہ پیچھے نہ۔یہ درست ہے، تم مظلوم ہو، کئی سو سال تمہیں یورپی اقوام نے لوٹا تمہیں تعلیم نہیں دی، اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں۔لیکن پیچھے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔اس لئے کہ اگر تعلیم کے اور مادی ترقیات کے اور روحانی ترقیات کے دروازے تم پر بند ہوتے اور تمہیں اپنے مستقبل کی طرف پیٹھ کرنی پڑتی تو تم پیچھے دیکھتے اور کڑھتے ، گالیاں دیتے اور بدلہ لینے کی سوچتے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے علم کے میدان میں بھی اور مادی ترقیات کے میدان میں بھی اور روحانی ترقیات کے میدان میں بھی تمہارے لئے بزرگ شاہراہیں کھول دی ہیں تو اب آگے بڑھو۔سامنے کی طرف دیکھو، پیچھے کیوں دیکھتے ہو؟ ویسے ان کے اندر آ گے بڑھنے کی اہلیت پائی جاتی ہے۔وہ بڑی سمجھ دار قوم ہے۔وہ توجہ سے پڑھتے ہیں اور وقت کو ضائع نہیں کرتے ، اس لئے وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل آتی ہے، پتہ ہی نہیں ہوتا، ایک صبح کو دنیا اٹھ کر دیکھتی ہے کہ جس قوم کو لوگ پیچھے سمجھتے تھے، وہ ان سے آگے نکل گئی ہے۔جاپان کی تاریخ میں ایسا ہی ہوا۔یورپ سمجھتا تھا کہ کوئی ایشیائی ملک ان سے آگے نہیں نکل سکتا۔مگر ایک صبح کو انہیں یہ اقرار کرنا پڑا کہ جاپان ان سے آگے نکل گیا یا کم از کم ان کے برابر آ گیا ہے۔(اعلان تو شاید برابر آنے کا کیا تھا کیونکہ اپنے سے آگے نکل جانے کا تو وہ مان نہیں سکتے تھے۔) اور یہ اس لئے کہ جو ایک اندورنی تبدیلی رونما ہوتی ہے، ایک نسل کے بعد جب دوسری نسل وہ مقام حاصل کر رہی ہوتی ہے تو کسی کو پتہ ہی نہیں لگتا، دنیا حیران رہ جاتی ہے۔یہ جو افریقہ میں اگلی نسل پرورش پارہی ہے، جسے میں دیکھ کر آیا ہوں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور صداقت ان پر کھولے اور دین و دنیا کی حسنات سے ان کو نوازے، وہ ایسے سعید فطرت ہیں کہ اگر ان کی صحیح 573