تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 572 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 572

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 03 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہمارے ایک نوجوان نا تجربہ کار مبلغ نے ہمارے نائیجیریا کے پریذیڈنٹ ، جن کا نام بکری ہے۔ان کے ساتھ موٹر میں بیٹھے ہوئے کوئی بد تمیزی کر دی۔بکری صاحب کا ایک بٹیا وہاں کی ہائیکورٹ کا جج بھی ہے اور مخلص احمدی۔( نائیجیریا کے دو مسلمان حج ہیں اور دونوں احمدی ہیں۔ایک ہمارا احمدی ہے اور ایک باغیوں میں سے احمدی ہے۔بہر حال وہ بھی اپنے آپ کو احمد ی ہی کہتے ہیں۔) بکری صاحب نے جو اس مبلغ کو جواب دیا، اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ کس قسم کے احمدی ہیں۔وہ اسے کہنے لگے، دیکھو تم نے بدتمیزی کی ہے۔میں ایک پرانا احمدی ہوں اور احمدیت میرے رگ وریشہ میں رچی ہوئی ہے۔مجھ پر تمہاری اس بات کا کوئی اثر نہیں۔لیکن میں تمہیں یہ بتادیتا ہوں، اگر تم نے نو جوانوں کے سامنے ایسی بات کی تو ان کو احمدیت سے دور لے جانے کے تم ذمہ دار ہو گے۔وہ لوگ احمدیت کے عاشق اور بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں۔ان کا جو کیریکٹر ہے اور ان کی جو عادتیں ہیں ، وہ اتنی اچھی اور خوبصورت ہیں کہ مجھے بعض دفعہ فکر پیدا ہوتی ہے کہ وہ کہیں ہم سے آگے نہ نکل جائیں۔اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ کوئی رشتہ تو نہیں کہ جو مرضی ہم کریں اور وہ ہمارے اوپر مہربان رہے۔اور دوسرے اس کی راہ میں زیادہ قربانیاں دینے والے، اس کے زیادہ عاشق اور اس سے زیادہ محبت کرنے والے ہوں اور وہ انہیں بھلا دے۔یہ تو نہیں ہو سکتا۔وہاں جو نسل اس وقت پرورش پارہی ہے، وہ بڑی سنجیدہ ہے۔حالانکہ تعلیمی لحاظ سے بڑے پیچھے ہیں۔لیکن اس کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ قوم سعید فطرت لے کر پیدا ہورہی ہے۔( دنیوی لحاظ سے بھی) مثلاً کوئی بچہ سڑک پر نہیں آئے گا۔وہاں دور کو کوئی خدشہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی انسان کو Knock down کر دے گا اور اسے مصیبت پڑ جائے گی۔اور اسی واسطے وہ بالعموم ستر، اتنی میل کی رفتار سے کار چلاتے ہیں۔چنانچہ ہم نے بو (Bo) سے سیرالیون تک 170 میل کی مسافت سوا تین گھنٹے میں طے کی۔کوئی آدمی سڑک پر نہیں آتا۔سڑک کے کنارے سے سات آٹھ سال کے بچے کداڑے لگا رہے ہوتے ہیں مگر کیا مجال ان میں سے کوئی سڑک پر آ جائے۔وہ سڑک کے کنارے یاد کانوں کے پاس رہتے ہیں۔مگر جہاں سے ٹریفک گزر رہی ہوتی ہے، وہاں بالکل نہیں جاتے۔ان کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ ایک چھوٹی افریقن بچی ، جسے ہم نے اپنی بیٹی بنایا ہے۔(اس کا باپ راضی ہو گیا تھا، اسے ہم ساتھ تو لا نہیں سکتے تھے، تیاری مکمل نہیں ہو سکتی تھی ، مثلاً پاسپورٹ وغیرہ بنوانا تھا۔وہ بچی منصورہ بیگم کو اس لئے پسند آئی کہ تین گھنٹے کا جلسہ اور پانچ سال کی وہ لڑکی۔منصورہ بیگم کہتی 572