تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 571
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 جولائی 1970ء 66 اس کے مقابلے میں ( دنیا ویسے آگے نکل گئی ہے، ہمیں وہی آواز پیاری ہے، جو حضرت بلال کی تھی) ہزاروں کی تعداد میں ہم نے عیسائیوں میں سے بھی اور مشرکوں میں سے بھی مسلمان بنائے ہیں۔اور ان کے سینے اللہ کے نور سے منور ہیں۔وہ اسهَدُ اَنْ لا اله " کہنے والے نہیں بلکہ ” اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ “ کہنے والے ہیں۔یعنی ان کا عربی کا تلفظ بھی صحیح ہے۔وہ عربی کے ساتھ تعلق رکھنے میں بھی جنونی ہیں۔احمدیت اور اسلام سے انہیں جو پیار ہے، وہ تو ہے ہی۔لیکن عربی زبان سے بھی وہ عشق رکھتے ہیں۔انہیں عربی بولنے کا بڑا شوق ہے۔چنانچہ وہاں کئی علاقوں میں عربی بولی جاتی ہے۔کماسی سے قریبا دو ، اڑھائی سو میل دور گھانا کے بارڈر پر واقع ہماری وا (Wa) کی جماعتیں ہیں۔کچھ وقت کم تھا، کچھ وہاں کے حالات مثلاً سڑکوں اور سفر کی دوسری سہولتوں کا علم نہیں تھا۔اور پھر Briefing ( بریفنگ ) ناقص تھی۔چنانچہ ہمارا پروگرام یہ طے پایا کہ کماسی سے صبح نیچی مان، جوستر میل کے فاصلے پر تھا، وہاں جائیں گے اور پھر واپس آ جائیں گے۔کماسی میں وا کے دوس نمائندے آگئے۔آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں ہماری کتنی جماعتیں ہوں گی۔یعنی مختلف جماعتوں کے دوسو نمائندے اکٹھے ہو کر آگئے اور مشکل یہ پیدا ہوگئی کہ ان کی اپنی لوکل زبان تھی۔جو کماسی کی زبان سے بالکل مختلف تھی۔اگر میری تقریر کا کماسی کی زبان میں ترجمہ ہوتا تو وہ بالکل سمجھ ہی نہیں سکتے تھے۔چنانچہ میں نے دوستوں سے مشورہ کیا۔کہنے لگے کہ اگر آپ انگریزی میں بولیں گے تو ان میں سے 10-5 فیصد سمجھ جائیں گے لیکن 90 فیصد بالکل نہیں سمجھیں گے۔اور پھر انگریزی تقریر کی صورت میں ان کی لوکل زبان میں ترجمہ کرنے والا بھی کوئی نہیں۔لیکن اگر آپ عربی میں بولیں تو یہ انگریزی سے زیادہ عربی سمجھ جائیں گے۔ہماری وہاں کی جماعتوں کے ایک پریذیڈنٹ بھی اس وفد میں شامل تھے، وہ عربی بڑی اچھی جانتے تھے۔وہ کہنے لگے کہ میں آپ کی عربی تقریر کا اپنی لوکل زبان میں ترجمہ کر دوں گا۔چنانچہ وہاں مجھے مختصر عربی میں تقریر کرنی پڑی۔میں آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ انہیں عربی سے بڑا پیار ہے۔اس علاقے کے لوگ ہماری طرح کی پگڑیاں باندھتے ہیں۔ہماری نقل میں نہیں بلکہ ویسے ہی ان کا پرانا رواج ہے۔کلاہ غالبا نہیں ہوتا۔اپنی ٹوپی پر پگڑی باندھتے ہیں۔لیکن ہمارے ملک کی طرح طرہ نکلا ہوا اور بالکل یہی شکل ہوتی ہے۔وہ بڑے اچھے اور سادہ لوگ تھے۔ہمارے جو دوست احمدی ہوتے ہیں، یہ صحیح ہے کہ شروع میں بعض میں کمزوری ہوتی ہوگی کیونکہ ولی بن کر تو اس نے احمدی نہیں ہونا بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے احمدی ہو کر ولی بنے گا، اس کے لئے لمبے عرصہ تک تربیت کرنے کی ضرورت ہے، بہر حال وہ لوگ بڑے مخلص احمدی ہیں۔571