تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 570 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 570

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم نہیں ہے۔لیکن ایک آدمی کے متعلق مجھے علم ہے کہ وہ دل سے عیسائی ہوا ہے۔ہمارے مبلغ نے اس سے کہا کہ ہم تو ہزاروں تم میں سے بھینچ کر مسلمان بنا چکے ہیں۔جن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ زند تعلق ہے اور ان کے متعلق ہم علی وجہ البصیرت کہہ سکتے ہیں کہ وہ پختہ مسلمان ہیں۔اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کا ذاتی مشاہدہ کر کے آپ سے انتہائی محبت کرنے والے ہیں۔اور یہ ایک حقیقت ہے۔ہم نے بھی وہاں اس قسم کے بہت نظارے دیکھے ہیں۔بہر حال مذہبی نقطہ نگاہ سے دنیا کا جونقشہ اس وقت ہمارے سامنے ہے، وہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں تو ان اقوام نے اعلان کر دیا کہ وہ عیسائی نہیں۔وہاں تو دہریت اور الحاد کا زور ہے۔یہ ہمارے لئے ایک علیحدہ محاذ ہے۔اس کے متعلق میں کسی اور خطبہ میں بیان کروں گا۔دنیا کا ایک علاقہ اور یہ بہت بڑا علاقہ ہے، اس میں ہمیں یا تو نام کے عیسائی نظر آتے ہیں یاد ہر یہ ہیں۔اور وہ کہتے ہیں کہ ہم عیسائی نہیں ہیں لیکن عیسائیت کا نام ان ملکوں میں ہے۔اور جہاں عیسائیت کا کافی Hold (ہولڈ) ہے ، وہ سپین اور جنوبی امریکہ کے علاوہ افریقہ کا براعظم ہے، جہاں اسلام اور عیسائیت کے درمیان جنگ لڑی جارہی ہے۔اگر دنیا کا یہ نقشہ صحیح ہو اور میرے نزدیک صحیح ہے تو اس لحاظ سے جماعت احمدیہ پر یہ زبردست ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اس محاذ پر عیسائیوں کو شکست دے۔وہاں افریقہ میں بھی عیسائیوں کا یہ حال ہے کہ ہمارے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ پہلے شہروں اور قصبوں میں پڑھے لکھے لوگوں میں ان کی تبلیغ کا بڑا زور تھا۔لیکن جب سے ہم آئے ہیں، یہ اب Bush ( بش ) میں چلے گئے ہیں۔وہ دوست اپنی طرف سے تو یہ کہہ رہے تھے کہ اب ہم کیا کریں؟ میں نے انہیں فوراً کہا،Follow them to the Bush تم بھی Bush میں جا کر ان کا پیچھا کرو، انہیں یہاں بھی سکنے نہیں دینا۔عیسائیت اسلام کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، یہ صحیح ہے۔لیکن یہ افریقہ کے معاشرہ پر اثر انداز نہیں ہوئی۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں، ابھی آٹھ ، دس دن ہوئے ، رپورٹ آتی ہے کہ ہمارے چلے آنے کے بعد کماسی میں ایک بہت بڑا عیسائی پیرا ماؤنٹ چیف مر گیا۔وہ خود عیسائی اور اس کے حلقہ اثر میں ہزاروں کی تعداد میں عیسائی۔لیکن اس پیرا ماؤنٹ چیف کے مرنے پر جس طرح بد مذہب والے یعنی مشرک دفن کیا کرتے تھے، وہی رسوم شروع ہو گئیں۔مرنے والا بھی عیسائی اس کے علاقے میں اس کے ماتحت جو تھے، ان میں سے بڑی بھاری اکثریت عیسائیوں کی۔لیکن رسوم جاہلیت کی اور ان کے مطابق اسے دفنا یا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسائیت نے لیبل لگا دیا ہے لیکن معاشرہ میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی۔570