تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 569 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 569

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 جولائی 1970ء فکر اور تدبر کرنے والے عیسائی پادری میرے نزدیک اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کا اسلام کے ساتھ آخری معرکہ افریقہ میں ہے۔اور اب وہاں بڑا زور دے رہے ہیں۔انگلستان میں گرجے برائے فروخت اور افریقہ میں نئے گرجے بنوا ر ہے ہیں۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی توجہ کا مرکز اس وقت انگلستان یا یورپی ممالک نہیں بلکہ افریقہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت مختلف عیسائی پادریوں کی جو بین الاقوامی کا نفرنسیں ہوا کرتی تھیں، ان میں وہ بیان دیا کرتے تھے (اور وہ چھپے ہوئے ہیں، ہمارے پاس ان کے حوالے موجود ہیں ) کہ افریقہ ان کی جیب میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت افریقہ عیسائیوں کے خیال میں ان کی جیب میں تھا۔پھر اس کے بعد حالات بدلے، اللہ تعالیٰ نے فضل اور رحم کیا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے اور وہ افریقہ، جو عیسائیت کی جیب میں تھا، ( ذمہ دار پادریوں اور بشپس کے حوالے موجود ہیں کہ افریقہ ان کی جیب میں ہے۔) اس کے متعلق انہوں نے یہ کہنا، شروع کر دیا کہ یہ بات مشتبہ ہے، پتہ نہیں، یہ براعظم عیسائیت کی جیب میں آتا ہے یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے نیچے جمع ہو جاتا ہے۔چنانچہ وہ فٹی ففٹی چانس کی باتیں کرنے لگے۔پھر جب ہماری تبلیغی مہم اور تیز ہوئی تو انہوں نے بین الا قوامی کانفرنسوں میں یہ بیان دیتے ہیں کہ اگر وہ ایک افریقن کو عیسائی بناتے ہیں تو احمد کی دس افریقنوں کو مسلمان بنا لیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایک اور دس کی نسبت سے اسلام کی فتح اور عیسائیت کی شکست تسلیم کرلی۔پھر جنہیں وہ عیسائی بناتے ہیں، ان کی حالت یہ ہے کہ بلجیم کے ایک پادری افریقہ کے ایک ملک میں 52 سالہ تبلیغ کرنے کے بعد بوڑھے ہو کر واپس جارہے تھے۔ہمارے ایک مبلغ بھی Courtesy call ( کرٹسی کال) کے طور پر اس سے ملنے گئے۔اور اتفاق کی بات تھی کہ وہاں اس وقت اور کوئی نہیں تھا، صرف وہ تھایا ہمارا مبلغ تھا۔بے تکلفانہ باتیں شروع ہوگئیں۔وہ عیسائی پادری کہنے لگا کہ کچی بات یہ ہے کہ میرے 52 سالہ تجر بہ اور کوش کا نچوڑ یہ ہے کہ اس عرصہ میں ، میں نے صرف ایک آدمی کو عیسائی بنایا ہے۔ویسے ہزاروں پر میں نے عیسائیت کے لیبل لگائے ہیں۔لیکن مجھے پتہ ہے کہ وہ عیسائی نہیں ہیں۔کوئی ہم سے دودھ لینے کی خاطر عیسائی ہوا ہے، کوئی ہم سے تعلیم حاصل کرنے لئے عیسائی بنا ہے، کوئی نوکری کی خاطر عیسائی ہو گیا ہے، کوئی گندم اور دوسری غذائی ضرورتوں کی خاطر عیسائی بنا ہے۔مجھے پتہ ہے کہ وہ عیسائی نہیں ہیں۔ہمارے مال اور دولت میں انہیں دلچسپی ہے ، عیسائیت میں انہیں دلچسپی 569