تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 561
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرموده دوران دورہ ایبٹ آباد 1970ء جہاں اسلام کے ابتدائی دور میں آپ کی محمدیت کی شان جلالی رنگ میں نہایت آب تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئی ، وہاں یہ بھی مقدر تھا کہ مسلمانوں کے تنزل کے زمانہ میں آپ " کی شان احمدیت آپ کے ایک بروز کامل اور محبوب ترین روحانی فرزند ، مہدی معہود اور مسیح موعود کے وجود میں ظہور پذیر ہوگی۔جس کے ہاتھ سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اسلام پھر سے ترقی کرے گا۔یہاں تک کہ ساری دنیا پر غالب آجائے گا“۔اسلام کے اس آخری زمانہ میں اسلام کی نا گفتہ بہ حالت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اسلام مخالف طاقتوں میں گھر ا ہوا تھا۔سب طاقتیں اکٹھی ہو کر اسلام کو مٹانے کی درپے تھیں۔عیسائیت کی طرف سے اسے نیست و نابود کرنے کے لئے ایک سے ایک بڑھ کر خطرناک منصوبہ بنایا جار ہا تھا۔اور ہر قسم کے دجل کا ایک جال پھیلا رکھا تھا۔چنانچہ برصغیر پاک و ہند کے بعض مسلمان علماء اور حفاظ عیسائی ہورہے تھے۔جس کی بناء پر عیسائی عمائدین یہ کہنے لگ گئے تھے کہ عنقریب ہندوستان میں مسلمان ڈھونڈھے سے نہیں ملے گا۔بعض پادری یہ بڑہانک رہے تھے کہ نعوذ باللہ خانہ کعبہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔بعض نے کہا کہ وہ براعظم افریقہ سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹادیں گئے۔فرمایا:۔ایسے پر آشوب زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔آپ نے خدا کے نام پر اسی کی نصرت اور تائید کے سہارے دنیا میں سچی تو حید کو قائم کرنے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے دکھانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور اسلام کی صداقت ثابت کرنے کا بیڑا اٹھایا۔آپ نے آسانی رہنمائی میں قرآن کریم کے زبردست دلائل کے ساتھ عیسائیت کے پر نچے اڑا کر رکھ دیئے۔فرمایا:۔اب آجا کر افریقہ ہی ایک ایسا ملک رہ گیا ہے، جہاں عیسائیت نے اپنے بے شمار مالی وسائل کے بل بوتے پر پاؤں پھیلا رکھے ہیں۔مگر یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، ہماری حقیر کوششوں کے لاکھوں گنا زیادہ ثمرات حاصل ہورہے ہیں“۔فرمایا:۔حضرت مسیح موعود کی جماعت پر ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی عظیم الشان ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔مالی قربانی پیش کرنے میں جماعت نے بڑے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔جانی قربانی کے لحاظ سے جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے، ضرورت سے زیادہ نام آگئے ہیں۔مگر ڈاکٹروں کی ابھی ضرورت 561