تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 559
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرموده دوران دورہ ایبٹ آباد 1970ء مقدور بھر مرد کی۔یہ دو ہی کچھ ایسا ہے۔لیکن بیٹا باپ کو چھوڑ سکتا ہے یا باپ بیٹے کو چھوڑ سکتا ہے لیکن ایک احمدی کسی انسان کو مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔کیونکہ وہ دنیا میں محبت و اخوت اور ہمدردی و غمخواری کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔یہ اس کا فرض ہے، جسے اس کو نباہنا چاہئے۔فرمایا:۔انسانی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ محبت و پیار کا یہ پیغام نہ پہلے کبھی نا کام ہوا ہے اور نہ آئندہ انشاء اللہ کبھی نا کام ہوگا۔اس لئے ہم بہر حال جیتیں گے۔البتہ ہماری دعا ہمیشہ وہی ہونی چاہئے ، جو قرآن کریم میں حضرت موسی کے منہ سے کہلوائی گئی ہے کہ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير یہ بڑی پیاری دعا ہے۔اس میں خیر یعنی بھلائی کو کسی خاص رنگ میں یا کسی معین مطالبے کی صورت میں پیش نہیں کیا گیا۔اس لئے ہماری بھی یہی دعا ہونی چاہئے کہ جس چیز میں ہمارے لئے خیر ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وہ ہمیں عطا فرمائے۔فرمایا:۔دنیا کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔ان کی مخالفت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔کیونکہ دلوں کو جیتنے کے لئے دلائل ان کے پاس نہیں۔آسمانی نشانوں کے نزول کے دروازے انہوں نے خود اپنے او پر بند کر رکھے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی اتباع میں انسانیت کی خدمت اور پیارو محبت سے ان کے دل جیتنے کی انہیں توفیق نہیں۔یہ شرف اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا ہے۔اس لحاظ سے ہم پر بہت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے نباہنے کی ہمیں بیش از بیش توفیق عطا فرمائے۔14 جولائی مطبوعہ روزنامہ الفضل 16 جولائی 1970 ء ) حضور نے اپنے مغربی افریقہ کے حالیہ دورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔آج سے اسی سال قبل ایک گمنام بستی سے جو آواز اللہ تعالیٰ کی سچی توحید اور حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے بلند ہوئی تھی، اس نے سات ہزار میل دور افریقہ کے سبزہ زاروں میں بسنے والی حضرت بلال کی قوم کے دلوں کو جس رنگ میں مسخر اور متاثر کیا ہے، اسے دیکھ کر میرا دل اللہ تعالیٰ کی حمد اور جذبات تشکر سے لبریز ہے۔559