تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 558
ارشادات فرموده دوران دوره ابیٹ آباد 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم 08 جولائی حضور نے فرمایا:۔الحمد للہ میرے مغربی افریقہ کے دورہ کے بڑے خوشکن نتائج ظاہر ہورہے ہیں۔نائیجیریا میں ابا دان ایک بہت بڑا شہر ہے، اس کے نواحی قصبات کے لوگوں نے خود احمد یوں کو بلایا اور دو گھنٹے کے تبادلہ خیالات کے نتیجہ میں 40 آدمیوں نے قبولیت اسلام کا شرف حاصل کیا۔جن کا تعلق تیرہ دیہات سے ہے۔ایک سکول کے قریباً سوطلبہ نے بیعت کی ہے۔سیرالیون میں پانچ نئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔پڑھے لکھے طبقہ میں احمد بیت اور اسلام کے حق میں ایک روپیدا ہوگئی ہے۔یوں لگتا ہے، دنیا بدل گئی ہے اور ایک عظیم انقلاب رونما ہورہا ہے۔حکومتی سطح پر جماعتی خدمات کی قدر دانی اور ان کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاتا ہے۔نائیجیریا کے ہیڈ آف دی سٹیٹ نے تو یہاں تک کہ دیا تھا کہ ملکی ترقی میں حکومت اور جماعت احمد یہ برابر کے شریک ہیں۔جماعتی خدمات کی اس سے زیادہ اچھی تعریف اور کیا ہوسکتی ہے؟ چنانچہ وہاں کی حکومتیں اب نئے ہسپتال اور سکول کھولنے کے سلسلہ میں ضروری سہولتیں بہم پہنچانے میں عملاً تعاون کر رہی ہیں۔فرمایا:۔یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہاں مذہب کے نام پر باہمی مخالفت اور سب وشتم کا بازار گرم ہے۔مگر افریقہ کے مزعومہ وحشی، جنہیں تہذیب و تمدن سے بظاہر نابلد سمجھا جاتا ہے، وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔دلوں کو جیتنے کے لئے جبر و تشدد سے کام نہیں لینا چاہئے۔فرمایا:۔ولوں کو جیتنے کے لئے اسلام ہمیں محبت و پیار، ہمدردی و غمخواری اور اخوت و مساوات سکھاتا ہے۔ہم اسی تعلیم پر عمل پیرا ہیں۔ہمارے مخالفین جتنا چاہیں زور لگالیں ، ہمارے دل میں ان کے لئے کبھی نفرت پیدا نہیں ہوگی۔ان کی مخالفت پر ہمیں کبھی غصہ نہیں آتا۔کیونکہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کی رو سے انسانیت کے محسن اعظم، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ حسنہ کی پیروی میں ہماری زندگیوں میں بھی ”بخع“ کی حالت کارفرما ہونی چاہئے۔ہماری تعلیم کا تقاضا یہی ہے۔ہماری روایات بھی یہی ہیں۔بعض ایسے حضرات جنہوں نے ساری عمر احمدیت کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر جب وہ زندگی کی آخری گھڑیوں میں متروک مہجور اور علاج تک کے محتاج تھے ، ہم نے ان کی 558