تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 553 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 553

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه 26 جون 1970ء کے لئے بہت دعائیں کریں۔اور یہ ایک عظیم فرق ہے، ایک احمدی ڈاکٹر اور اس ڈاکٹر میں ، جو بھی احمدی نہیں۔ایک احمدی ڈاکٹر اپنے مریض کی صرف تشخیص ہی نہیں کرتا یا اسے دو ہی نہیں دیتا بلکہ اس کے لئے دعائیں بھی کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں برکت ڈالتا ہے۔جس کے نتیجہ میں ان مریضوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ہم نے دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول کے لئے اپنی محبت اور پیار اور خدمت اور ہمدردی اور غم خواری اور مساوات کے جذبہ سے جیتنے ہیں۔یہ ہمارا فرض ہے۔پس ہر ڈاکٹر کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ کس غرض کے لئے وہاں گیا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں شفا بخشے گا۔اس وقت جو ڈاکٹر وہاں گئے ہیں۔میں عام طور پر ان کے لئے دعائیں کرتا ہوں۔مثلاً ڈاکٹر سعید بھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے، وہاں گئے ہیں۔میں نے انہیں بھجوایا تھا۔ان دنوں میں میرے دل میں خاص طور پر یہ جذبہ تھا۔میں نے بڑی دعا کی کہ اے اللہ ! تیری راہ میں یہ شخص سات ہزار میل دور جارہا ہے، تو اپنے فضل سے اس کے ہاتھ میں شفا بخش دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا بخش دی اور وہاں وہ بڑے کامیاب ڈاکٹر ہیں۔پس کم از کم 30 ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔(اور مجھے امید ہے، اس سے زیادہ ہو جائیں گے۔کچھ تو انگلستان میں پڑھنے والے ڈاکٹروں میں سے بھی بعض نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ ہمارے پاس سب کے نام آجانے چاہئیں، پھر ہم ان میں سے انتخاب کریں گے۔ان کی Qualification ( کولیفیکیشن ) دیکھیں گے اور اسی طرح دوسرے کوائف مثلا عمر اور عادات وغیرہ وغیرہ، ہزاروں باتیں ہیں، یہ سب دیکھ کر پھر ان کو وہاں بھجوائیں گے۔ویسے وہاں بڑا ہی مخلص دل انسان جانا چاہئے۔جس کے اوپر ہم پورے طور پر اعتماد کر سکیں۔مثلاً نائیجیریا میں ہمارے ایک ہسپتال کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ انہوں نے پندرہ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کی سیونگ کی۔وہاں ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔بس اخلاص سے وہ ہر مہینے آپ ہی رقم بھیج دیتے ہیں۔سارے میڈیکل سنٹرز کا یہی حال ہے۔وہ لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے سارے اخراجات کے بعد یہ رقم بچی ہے، اسے ہم بھجوا رہے ہیں۔پس ہمیں اس قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔کیونکہ جو تم بچتی ہے، وہ کسی کی ذات پر تو خرچ نہیں ہوئی۔ان ملکوں پر خرچ ہونی چاہئے۔اور میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر گیمبیا میں مثلاً چار ہیلتھ سنٹر کھل جائیں تو ہم وہاں ہر سال ایک نیا ہائی سکول کھول سکتے ہیں۔ہم نے ان دونوں میدانوں میں متوازی طور پر بڑی سرعت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔لیکن وہاں پہلے طبی امداد کے مراکز کھلنے چاہئیں۔553