تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 40 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 40

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تھے۔اس لئے آپ نے فرمایا ہے، جو شخص مجھ میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق کرتا ہے، اس نے دراصل مجھے پہنچانا ہی نہیں۔کیونکہ جس طرح ایک شخص کی تصویر لی جاتی ہے یا کسی تصویر کا چربہ اتارا جاتا ہے، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام صفات کو اپنے اندر سمیٹ لیا، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھیں۔اور اپنا سارا وجو درسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں کلیہ فنا کر دیا تھا۔اور کوئی بینا آنکھ ان دو وجودوں میں فرق نہیں کر سکتی۔بالکل اسی طرح جس طرح وہ آگ اور اس لو ہے میں فرق نہیں کر سکتی ، جو آگ میں پڑ کر خود آگ بن جاتا ہے۔حالانکہ وہ آگ نہیں ہوتا ، لوہاہی ہوتا ہے لیکن اس میں آگ کی تمام خوبیاں اور صفات پیدا ہو جاتے ہیں۔اور دیکھنے والی آنکھ اسے آگ کا شعلہ ہی خیال کرتی ہے۔لیکن حقیقت اس کے سوا ہوتی ہے۔وہ آگ کا شعلہ نہیں ، لوہے کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے۔بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے نفس پر کامل اور مکمل فنا طاری کی اور اپنے وجود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں مدغم کر دیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ظل ہونے کی وجہ سے خذمن اموالهم صدقة کے ماتحت آپ نے بھی جماعت کے لئے مالی قربانیوں کے منصوبے تیار کئے۔آپ نے بھی جماعت سے قربانیاں لیں اور اس کی ایسے رنگ میں تربیت کی کہ وہ ہر موقع پر بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیتی چلی آئی۔پھر آپ کے وصال کے بعد جو لوگ مقام خلافت پر فائز ہوئے۔ان کے زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کو نمایاں طور پر پورا کیا۔حضرت مصلح موعودؓ کے زمانہ کو دیکھ لو۔آپ نے مختلف اوقات میں باوجود اس کے کہ جماعت پہلے مالی قربانیاں پیش کر رہی تھی، اس کے سامنے کئی نئی سکیمیں رکھیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں پورا کرے۔اور ہم نے دیکھا کہ جماعت بشاشت اور خوشی کے ساتھ چھلانگیں لگاتی ہوئی ، آپ کی طرف دوڑی اور ہنستے ہوئے ، اس نے اپنے مزید اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دیئے۔وصیت کا چندہ دینے والوں نے تحریک جدید کے چندہ میں بھی بشاشت اور خوشی کے ساتھ حصہ لیا۔تحریک جدید کا چندہ دینے والوں نے وقف جدید کے چندوں میں بھی خوشی اور بشاشت کے ساتھ حصہ لیا۔پھر تحریک جدید اور وقف جدید کے سوا دوسرے لازمی چندے دینے والوں نے ان چندوں میں بھی بڑی بشاشت سے حصہ لیا، جو محض وقتی نوعیت کے تھے۔مثلاً باہر کے ملکوں میں مساجد کی تعمیر ہے۔مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں ہماری بہنوں نے ہی دنیا کو بڑا اچھا نمونہ دکھایا ہے اور رہتی دنیا تک ایک مومن کے دل میں ان کا نام بڑے فخر ساتھ یادر ہے گا اور مومنوں کی دعائیں انہیں ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں گی۔40