تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 548

اقتباس از خطبه جمعه 26 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تیسری بات، جو میں کہنا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ علاوہ مال کے ( جو ضرورت کے لحاظ سے بہت تھوڑا ہے۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ ہمیں جتنی توفیق دیتا ہے، ہم وہی اس کے حضور پیش کر سکتے ہیں۔) ہمیں آدمیوں کی بھی ضرورت ہے۔اور اس کے متعلق میں آج یہاں غالباً پہلی دفعہ یہ اپیل کر رہا ہوں۔انگلستان میں جب میں نے تحریک کی تو وہاں کے بعض بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور اونچی ڈگریاں لینے والے احمدی ڈاکٹروں نے افریقہ میں کام کرنے کے لئے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر دیں۔بہر حال ہمیں کم سے کم 30 ڈاکٹروں اور 70,80 ٹیچرز کی ضرورت ہے۔ہمارا ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر بھی وہاں کام کر سکتا ہے۔ایسے ڈاکٹر وہاں اس وقت کام کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب ہیں۔ٹیچنگ لائن میں ایک بی۔اے، جس نے ٹریننگ حاصل کی اور جو بی۔ایڈ کہلاتا ہے، اسے وہ لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔اور ایک ایم ایس سی اور ایم۔اے کی نسبت اس کے لئے جلدی اور سہولت سے پر مٹ مل جاتا ہے۔غرض بی۔اے، بی ایس سی، جس نے ٹریننگ بھی حاصل کی ہو، اسے وہاں کی حکومتیں ترجیح دیتی ہیں۔اس کے مقابلے میں اگر کوئی محض ایم۔اے یا ایم۔ایس سی ہو اور ٹر ینگ حاصل نہ کی ہو۔اسے وہ اقوام ٹیچنگ لائن میں وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتیں۔البتہ جس نے ایم۔اے ایم۔ایس سی کے ساتھ ٹریننگ بھی کی ہو، وہ تو اور بھی اچھی بات ہے۔یہاں پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال سینکڑوں، ہزاروں احمدی نوجوان بی۔اے، بی ایس سی اور ایم۔اے، ایم ایس سی کا امتحان پاس کرتے ہیں۔ان سینکڑوں، ہزاروں میں سے اس وقت ہمیں 80, 70 نو جوانوں کی ضرورت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کریں۔جو دوست وہاں جاتے ہیں، وہ اکثر جگہ ( ہر جگہ تو نہیں۔کیونکہ جہاں نئے سکول کھولیں گے، وہاں ہم اتنا گزارہ نہیں دیں گے۔لیکن وہ سیرالیون میں مثلاً یہاں کے یونیورسٹی کے پروفیسروں جتنی تنخواہ بھی لے رہے ہیں۔اوراللہ تعالی کا ثواب بہر حال اس پر زائد ہے۔لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان ملکوں کا دورہ کرتے وقت میرا احساس یہ رہا ہے کہ ہمارے مبلغوں سے ہمارے ٹیچر ز کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہیں۔وہ بڑے پیار اور بڑی تندہی سے کام کرنے والے ہیں۔مجھے شرم سے یہ اظہار کرنا پڑتا ہے کہ ان لوگوں کا کام اپنی سنجیدگی اور متانت کے لحاظ سے، اپنی ذمہ داری کے احساس کے لحاظ سے اور جو وقت وہ خرچ کر رہے ہیں، اس کے لحاظ سے اور جو اثر وہ اپنے طلبہ پر پیدا کر رہے ہیں، اس کے لحاظ سے، غرض بہت سی باتوں میں وہ تعلیم الاسلام کالج سے بھی زیادہ اچھے ہیں۔اور یہ شرم کی بات ہے۔ہمارے مرکز 548