تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 541 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 541

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 19 جون 1970ء ہے کہ اسلام کے غلبہ کے دن آگئے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔اس لیے ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔اور یہ بات بھی ان کے نقطۂ نگاہ سے فکر کی بات ہے اور ہمارے نقطہ نگاہ سے دنیا کے لئے خوش قسمتی کے دن ہیں کہ یہ خدا سے دوری میں دن گزار رہے تھے، اب خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں ان پر کھولی جارہی ہیں۔بہر حال اپنے نقطہ نگاہ سے ان کو یہی کہنا پڑا کہ ہمیں اب اپنی فکر کرنی چاہئے۔پس ہمارا جو مبلغ حقیقی معنی میں محبت اور ہمدردی اور غمخواری اور مساوات اور جذبہ خدمت لے کر اور وہاں نہیں جاتا اورمحمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حبت بھرا پیغام ان کو نہیں پہنچا تا ، وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔آپ کی تو کیفیت تھی۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ یہ جذ بہ اگر اس کے دل میں نہیں ہے تو وہ ناکام مبلغ ہے۔اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔لیکن اگر یہ ان سے محبت نہ کرے، میں تو سات سات، آٹھ آٹھ دن مختلف ملکوں میں رہا ہوں۔مگر جتنے بچوں سے میں نے پیار کئے ہیں، اتنے ہمارے سارے مبلغوں نے تین سال میں بھی نہیں کئے ہوں گے ، ان کے بچوں سے پیار۔پھر میں ان کے بڑوں کا بھی بہت خیال رکھتا تھا۔جب ہم بو پہنچے ، ایک سو ستر میل سفر تھا۔گرمی ، جبس، کھانا بھی وقت سے بے وقت اور میرا جسم کوفت کی وجہ سے کام کے قابل نہیں تھا۔میں اپنے کمرہ میں چلا گیا۔جسم انکار کر رہا تھا، کام کرنے سے۔وہاں بے وقت پہنچے۔اس وقت مجھے اطلاع ملی کہ دو ہزار سے زیادہ احمدی یہاں پہنچ گیا ہے، لاج میں۔اور وہ کہتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ حضرت صاحب تھکے ہوئے ہیں۔لیکن ہمیں صرف اپنی شکل دکھا دیں اور ہم سلام کریں گے اور چلے جائیں گے۔میں نے سوچا اگر وہ میری شکل دیکھنے کے بھوکے ہیں تو مجھے بہر حال تکلیف اٹھانی چاہئے۔میں نے انہیں کہا کہ میں تمہیں شکل ہی نہیں دکھاؤں گا، میں تم سے مصافحے بھی کروں گا۔پھر میں نے ان سے مصافحے کئے ، ان کو گلے لگایا۔دو گھنٹے کے قریب میں نے ان سے مصافحے کئے۔میرا حال یہ تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا، مصافحوں کے دوران کہ مجھے یقین تھا کہ میں بیہوش ہو کر گر جاؤں گا۔لیکن یہ ان کا حق تھا، جسے میں نے بہر حال ادا کرنا تھا۔ایک ڈاکٹر صاحب، جو ڈیوٹی پر تھے، بطور ڈاکٹر کے تو ان کی ضرورت نہیں پڑی لیکن وہ پانی وغیرہ کا خیال رکھتے تھے۔ان کو میں نے کہا کہ میری یہ حالت ہے، دس، دس منٹ کے بعد مجھے پانی دیتے چلے جاؤ۔چنانچہ وہ دودو، چار چار گھونٹ پانی کے مجھے پکڑاتے تھے تو میں پی لیتا تھا اور مجھے سہارا مل جاتا تھا۔اور سارا وقت میں نے ایسا کیا۔جتنے پیار میں نے ان کے بچوں سے ایک ایک ملک میں کئے اور جس قدر محبت اور شفقت کا سلوک ان کے بڑوں سے کیا ، وہ بے ثمر نہیں رہا۔541