تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 539 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 539

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود : 19 جون 1970 ء کے بعد نظارت اصلاح وارشاد کو دیں گے۔اور باقیوں میں سے ممکن ہے، پانچ ، دس ایسے ہوں کہ ہم ان کو کہیں تم ربوہ میں رہو اور ریفریشر کورس کرو۔یا تو اپنی تربیت کر لو، کوشش اور دعا کے ساتھ اور یا پھر ہم تمہیں فارغ کر دیں گے۔غرض ہم نے خانہ پری نہیں کرنی۔کیا خانہ پری سے اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو گا ؟ اللہ تعالٰی ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مخلصین اس کی راہ میں قربان کریں۔اللہ تعالیٰ اس بات سے خوش نہیں ہو سکتا کہ چند سو غیر مخلص، بدنیت اس کے حضور پیش کر دو۔جس طرح بعض لوگ قربانی کرتے وقت جو سب سے لاغر بکرا ہوتا ہے، اس کی قربانی کر دیتے ہیں۔انسانوں کا جسم جو تمام اجسام سے زیادہ اچھا ہے، خدا کی نگاہ میں اور فائن بھی زیادہ ہے، اس کے گوشت کی بناوٹ جانور جیسی نہیں۔جانور کے گوشت کو انسانی جسم تحلیل کرتا ہے اور اپنے مطلب کی چیز لے لیتا ہے اور جو اس کے جسم سے مناسبت نہیں رکھتا ، اسے باہر نکال دیتا ہے، فضلے کے ذریعہ سے۔ایک دفعہ میں لاہور جارہا تھا کہ لاہور سے دس، بارہ میل ورے مجھے بیل اور گائیں لاہور کی طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔میں موٹر میں تھا اور ان کی ہڈیاں نکلی ہوئیں اور گوشت غائب، صرف چھڑا اور ہڈیاں نظر آ رہی تھیں۔ان کی شکل میں نے دیکھی ، میں نے کہا کہ یہ جارہے ہیں مذبحہ خانے، انسانوں کی غذا بنیں گے۔ہماری کارنے جب ہارن بجایا تو ان میں سے ایک اسی طرح کا نیم مردہ بیل ہارن کی آواز سن کر اور ڈر کر دوڑ پڑا۔اور وہ تمہیں گز ہی دوڑا ہوگا کہ اس کی حرکت قلب بند ہوگی اور مر گیا۔یہ تو انسان کی مناسب غذا نہیں۔پس انسان کو بہترین، اشرف المخلوقات بنایا ہے، اللہ تعالیٰ نے۔اور اشرف ہی اس کو بننا چاہئے ، جسمانی قومی کے لحاظ سے بھی اور روحانی تربیت کے لحاظ سے بھی۔پس با اخلاق اور روحانی انسان بنا کر مبلغوں کو باہر بھیجنا چاہئے۔وہاں مبلغوں میں سے اس کا اثر ہے، جو دعا کرنے والا اور بے نفس ہے۔اور اس کا اثر ہونا چاہئے۔جب ہم نے خدا کی طرف بلانا ہے تو جو خدا سے دور ہوگا، وہ خدا کی طرف کیسے بلائے گا ؟ خدا کی طرف تو وہی بلا سکتا ہے، جو خدا تعالیٰ کا مقرب ہوگا۔جس کو اس کا قرب حاصل ہوگا۔جس کو خود اس کا قرب حاصل نہیں، وہ دوسرے کو قرب کی راہیں کیسے دکھا سکتا ہے؟ تو مبلغ کے لئے بنیادی چیز یہ ہے کہ وہ بے نفس ہو، غرور اور تکبر اس میں نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا زندہ تعلق ہو۔اور یہ قومیں، خصوصاً افریقہ کی، پیار کی اتنی بھوکی ہیں اور اتنی پیاسی ہیں کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔زمبیا کے ایک وزیر ، لندن کے ایروڈ رام پر اتفا قامل گئے تھے، جب ہم واپس آ رہے تھے۔ان کا ہائی کمشنر بھی ان کے ساتھ تھا اور ایک دس، بارہ سال کا بچہ بھی ساتھ تھا۔میں نے اس کو گلے لگالیا اور پیار کیا۔539