تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 536 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 536

خطبہ جمعہ فرموده 19 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اگر ہم تین سال کے لئے باہر بھیجیں تو میں اپنی بہنوں کو یہ سنانا چاہتا ہوں کہ اگر ایک عیسائی لڑکی نوجوان اپنے بال کٹوا کر ساری عمر کے لئے Catholic nun کیتھولک نن ) بنتی ہے اور تثلیث کے ساتھ یہ عہد کرتی ہے کہ میں تثلیث کی خدمت کے لئے کنواری رہوں گی تو کیا آپ بہنیں تو حید کی خدمت کے لئے تین سال تک کے لئے اپنے خاوندوں سے علیحدہ نہیں رہ سکتیں ؟ اگر آپ اتنا بھی نمونہ قربانی کا پیش نہیں کر سکتیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی جائز وجہ ہوگی کہ آپ اپنے خاوندوں سے خلع لے لیں۔یہ آپ کے لئے بھی بہتر ہے اور ان کے لئے بھی بہتر ہے اور ہمارے لئے بھی بہتر ہے۔لیکن اگر آپ کے دل میں اللہ کی محبت اور پیار ہے تو اس قربانی کے لئے ، جو عیسائی نوں (nuns) کی قربانی کے مقابلہ میں بالکل حقیر ہے ، تیار ہو جا ئیں۔پس ہمیں اپنے مبلغوں کو تین سال سے زیادہ عرصہ تک باہر نہیں رکھنا چاہئے۔چاہے ہم انہیں چھ مہینہ کے لئے بلائیں۔پہلے چونکہ آمد ورفت کے لئے پیسے کم تھے ، جب خاندان بچوں سمیت باہر چلے جاتے تھے، خرچ زیادہ ہوتا تھا تو تحریک کے لئے مجبوری تھی۔یعنی پہلا جو قانون تھا، وہ مجبوراً جاری کیا گیا تھا کہ مبلغ کے ساتھ ان کے بیوی بچوں کو بھی بھیج دو۔دس دس ، پندرہ پندرہ سال وہاں رہیں گے۔اب تجربہ کے بعد ہمیں پتہ لگا کہ یہ درست نہیں ہے۔سوائے اس مبشر کے کہ جس کے ساتھ بیوی کا جانا جماعتی کام کے لئے ضروری ہے، باقیوں کو قربانی دینی چاہئے۔دو، تین سال کے بعد واپس آ جائیں گے۔بہت سے معصوم احمدی ناجائز طور پر پانچ ، پانچ سال کی قید کی سزا بھی بھگتے ہیں۔کئی ایک کا مجھے بھی علم ہے۔بالکل بے گناہ لیکن جھوٹی گواہیوں پر پانچ، پانچ سال کی سزا ان کومل گئی۔کیا اس قیدی کی بیوی اپنے خاوند سے پانچ سال علیحدہ نہیں رہتی ؟ تو کیا تم اپنے رب کے عاشق کی جدائی تین سال برداشت نہیں کر سکتیں؟ اور وہ علیحدہ رہتی ہے تو اسے کوئی ثواب نہیں ملتا اور اگر تم علیحدہ رہوگی تو تمہیں ثواب ملے گا۔وہ علیحدہ رہتی ہے تو اکثر اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والے موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل ہے۔یہ صحیح ہے کہ آپ بہنیں بعض دفعہ اپنے حقوق سے زیادہ کا مطالبہ کرنے لگ جاتی ہیں، دنیا کی حرص میں۔اور آپ کی وہ بات نہیں مانی جاتی تو پھر آپ کے دل میں شکوہ پیدا ہوتا ہے۔لیکن اگر دنیا کی حرص نہ ہو اور صرف جائز حقوق ہوں تو جائز حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری جماعت اور مہدی معہود کا خلیفہ ہے۔لیکن یہ فیصلہ کرنا، بہر حال نظام کا کام ہے اور خلیفہ وقت کا کام ہے۔آپ کو اس دنیا میں بھی بہت سی سہولتیں مل جاتی ہیں۔536