تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 537
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 19 جون 1970ء کئی ہماری بہنیں وہاں جا کر اپنے خاوندوں کو پریشان کرتی ہیں۔کیونکہ دنیا کی حرص ان میں ہوتی ہے، ان کی پوری تربیت نہیں ہوئی ہوتی۔اور عجیب کشمکش پیدا ہو جاتی ہے، ایک مبلغ اور اس کی بیوی کے درمیان۔وہ بے نفس زندگی گزارنا چاہتا ہے اور یہ ایسی کہ اس کا نفس موٹا اور دنیا کی لالچ اور حرص۔اس پر گھر میں جھگڑا رہتا ہے، اس لئے وہ اپنا کام پورا نہیں کر سکتا۔لیکن بہت سی بیویاں اللہ تعالیٰ کی فدائی، بے نفس ایسی دیکھی ہیں کہ ہر وقت ان کے لئے دعا ئیں کرنے کو دل چاہتا ہے۔کلیم صاحب کی ان پڑھ بیوی ان کے ساتھ گئی تھی۔ان کو باہر گئے ہوئے بڑا لمبا عرصہ ہو گیا ہے۔انشاء اللہ، اب وہ جلد واپس آرہے ہیں۔ان کی بیوی نے منصورہ بیگم کو بتایا، وہ کہنے لگی کہ جب میں یہاں آئی تو میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ نہ مجھے انگریزی آئے ، نہ کوئی اور زبان آئے ، اردو تھوڑی بہت آتی ہے، وہ بھی زیادہ نہیں آتی اور میں ایک مبلغ انچارج کی بیوی بن کر یہاں آئی ہوں مگر کوئی خدمت نہیں کر سکتی۔دعا کرتی رہی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ تم انگریزی سیکھنے کی بجائے ان کی مقامی زبان سیکھ لو۔پھر انہوں نے بڑی محنت سے وہاں سالٹ پانڈ کی مقامی زبان سیکھ لی اور بڑی اچھی زبان بولتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش اور آرزو کو پورا کیا۔ایسی خواہشیں مقام نعیم کی طرف لے جانے والی ہیں۔ان کو توفیق ملی کہ انہوں نے سینکڑوں افریقن احمدی بچوں کو قرآن کریم پڑھایا اور اس کا ترجمہ سکھایا۔کیونکہ ان کی زبان میں بڑی روانی سے بات کرتی تھیں۔پس ایسی بھی ہیں لیکن بعض دوسری قسم کی بھی ہیں۔جیسے بعض استثناء مبلغوں کے ہیں۔یہ استثناء ہیں، اکثریت ایسی نہیں۔جو گندی مثالیں ہیں، وہ بالکل استثنائی ہیں۔لیکن ہم ایک زندہ جماعت ہیں اور ایک زندہ جماعت میں ایک مثال بھی ایسی ہو تو اس کو برداشت نہیں کر سکتی۔حالانکہ برداشت کرنا چاہئے۔ور نہ آہستہ آہستہ زنگ بڑھتا چلا جاتا ہے اور زندگی کے بجائے موت کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً چھ ملکوں میں ہمارے درجنوں مبلغ ہیں، ماشاء اللہ۔صرف دو کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس قسم کے ہیں۔وہ ہیں بھی نوجوان اور پھر غیر تربیت یافتہ۔غلطی کی کہ فوراً ان کو باہر بھجوا دیا۔اسی طرح ہماری مستورات ہیں ، وہاں ان کا بے حد اثر ورسوخ ہے ، وہ بڑی خدمت کر رہی ہیں۔وہ ایک قسم کی مبلغ اور مبشرہ ہیں۔اللہ تعالی انہیں بھی جزائے خیر دے اور اپنے خاوندوں کے ساتھ ان کو بھی مقام نعیم میں رکھے۔لیکن عورتوں میں بھی استثناء ہیں۔ہماری جو بہن ایسی ہوگی ، یعنی مبلغ کی بیوی، جسے ہم سمجھیں گے کہ اس کو ساتھ جانا چاہئے ، اس کے لئے شرط لگائیں گے کہ چھ مہینے وہاں کی زبان سیکھے۔کیونکہ انگریزی کی نسبت وہاں کی مقامی زبان کا جاننا بہت ضروری ہے۔537