تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 533

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 19 جون 1970ء تربیت کر سکتا ہے؟ پھر تو وہ اس شخص کے خلاف بھی بغاوت کریں گے، خدا کے خلاف بھی بغاوت کریں گے۔کیونکہ بغاوت کا سبق ان کو جامعہ احمدیہ میں دیا گیا ہے۔خدا کو نہ ایسے استاد کی ضرورت ہے اور نہ ایسے شاگرد کی ضرورت ہے۔پس جامعہ احمدیہ کو اپنی فکر کرنی چاہئے۔اور جماعت کو جامعہ احمدیہ کی فکر کرنی چاہئے۔پھر جب فارغ ہو جاتے ہیں تو بعض تو ہماری غلطیاں ہیں ، اس حقیقت کو ہمیں تسلیم کرنا چاہئے۔ایک نیا نیا نو جوان فارغ ہوتا ہے، ہم اسے باہر بھیج دیتے ہیں۔اس کی نہ کوئی تربیت کی ، نہ ہم نے اس کے ذہن کو Polish ( پالش ) کیا۔وہ باہر جا کر غلطیاں کرے گا ، ہم بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔کیونکہ اس وقت تک دستور یہ رہا ہے کہ اگر جامعہ احمدیہ سے آٹھ شاہد کامیاب ہوئے ، چار تحریک جدید میں چلے گئے اور چار چلے گئے صدر انجمن احمدیہ میں۔جو صدرانجمن احمدیہ کے حصے میں آئے ، ان کو یہیں خدمت کا موقع ماتا ہے اور جو تحریک میں گئے تحریک ان کو یہاں تو نہیں رکھ سکتی ، وہ انہیں باہر بھیج دیتی ہے۔ابھی تک ہم نے اس کو پوری طرح Polish ( پالش نہیں کیا، اس کی پوری تربیت نہیں کی ، اس کے پورے حالات نہیں معلوم کہ وہ کیسا کام کر سکتا ہے؟ اس کو ہم ایک ابتلا میں ڈال دیتے ہیں۔اس حد تک ہماری ذمہ داری ہے۔جس حد تک کہ اس نے اپنے مقام کو نہیں پہچانا، یہ اس کی ذمہ داری ہے۔انسان کا مقام تو دراصل عاجزی کا مقام ہے۔سرکا مقام زمین ہے، بلندی نہیں۔جسم کے اوپر لگا ہوا ہے لیکن ہے اس کا مقام پاؤں پر۔لائبیریا کے پریذیڈنٹ ٹب مین نے ہماری دعوت کی۔ان کے محل میں جو کھانے کا کمرہ ہے، اس کی چھت شیشوں کی ہے۔جس میں آدمی نظر آتا ہے۔لیکن چھت پر اگر شیشہ ہو تو دیکھنے سے سر نیچے نظر آئے گا اور پاؤں اوپر نظر آئیں گے۔وہاں جا کر بیٹھتے ہی میں نے انہیں کہا کہ میں آپ کے اس کمرے میں آکر بہت خوش ہوا ہوں۔کیونکہ یہاں جو انسان آتا ہے، اس کو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس کے سر کا اصل مقام کون سا ہے؟ وہ اس سے بہت محفوظ ہوئے۔اگر چہ اس کی عمر تر اسی سال ہے مگر وہ بڑا بیدار مغز انسان ہے۔اور وہ اپنی قوم کے لئے باپ کی طرح ہے۔میں نے اس میں یہ بڑی خوبی دیکھی ہے۔کسی سے بھی آپ بات کریں ، وہ اسے باپ سمجھے گا اور باپ ہی کہے گا۔اس نے اپنے ملک کی 1944 ء سے اس وقت تک بڑی خدمت کی ہے۔ان کا دستور ہے کہ کھانے کے بعد کھڑے ہو کر چھوٹی سی تقریر کرتے ہیں۔میں نے بھی کی۔وہ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ہوں تو میں عیسائی لیکن میں خدائے واحد و یگانہ پر ایمان رکھتا ہوں اور سارے مذاہب میرے لئے برابر ہیں۔میں بحیثیت پریذیڈنٹ مذہب مذہب میں تفریق نہیں کر سکتا۔اور پھر اس 533