تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 525
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود 12 جون 1970ء آپ یہ بھی دعا کریں کہ جن ملکوں میں یہ ذہنیت نہیں، اللہ تعالیٰ ان ملکوں میں بھی یہ ذہنیت پیدا کر دے اور ان کو بھی سمجھ آجائے۔میں تو بڑی تحدی کے ساتھ یہ بات کیا کرتا ہوں اور مخالف اسلام کو شرمندہ کر دیتا ہوں۔ہوائی جہاز میں دو امریکن بیٹھے ہوئے تھے۔ہم 35 ہزارفٹ کی بلندی پر اڑ رہے تھے کہ کسی چھوٹی سی بات پر ان سے واقفیت ہوگئی۔وہ میرے پیچھے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔مجھے موقع مل گیا، میں نے ان سے کہا کہ میں تو حیران ہوتا ہوں کہ فر فرد سے نفرت اور حقارت کا اظہار کر رہا ہے، قومیں قوموں کو نفرت اور حقارت سے دیکھ رہی ہیں۔پیار سے کوئی ایک دوسرے سے معاملہ نہیں کرتا۔میں نے ان سے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ انسان انسان سے پیار کرنا سکھے۔چونکہ ہیں تو یہ پڑھی لکھی ہوشیار تو میں ، نہ میں نے امریکہ کا نام لیا تھا اور نہ روس کا ، وہ آگے سے مجھے کہنے لگے کہ اب ہماری روس کے ساتھ Under Standing ( انڈرسٹینڈنگ ہوگئی ہے۔یعنی کچھ معاملہ فہمی ہو گئی ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے لگے ہیں۔وہ سمجھ گئے کہ یہ ہمیں کو سمجھا رہا ہے۔میں نے ان سے کہا، یہ ٹھیک ہے تمہاری روس سے Under Standing ( انڈرسٹینڈنگ ) ہوگئی ہے۔But out of fear Not out of love تم نے سمجھوتہ اس خوف سے کیا ہے کہ ایک دوسرے کو ہلاک نہ کر دیں۔محبت کے نتیجہ میں یہ سمجھوتہ نہیں ہوا۔چنانچہ وہ گھسیانے سے ہو کر کہنے لگے، بات آپ کی ٹھیک ہے۔لیکن بہر حال ایک قدم صحیح راستے کی طرف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔میں نے کہا ، یہ ٹھیک ہے، یہ میں مان لیتا ہوں لیکن یہ ظلم ہے کہ ہم محبت کرنا بھول گئے۔ایک مسلمان کے لئےلمحہ فکر یہ ہے کہ جس کو وہ اپنا آقا و مطاع کہتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ، جس کے متعلق وہ اس عقیدے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کا محبوب اور اللہ کی محبت اس کی محبت کے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی اس کے مسلک کو چھوڑتے ہیں۔کس سے نفرت کی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ؟ کوئی ہمیں بتائے۔جب سختی کی اصلاح کے لئے کی۔آپ کی زندگی میں انسان کے لئے نفرت اور حقارت کا کوئی ایک واقعہ بھی نہیں دکھا سکتا۔انسان کی بد اعمالیوں سے نفرت بھی کی، انہیں حقارت سے بھی دیکھا۔بد اعمالیوں سے ہمارا بھی حق ہے کہ ہم نفرت کریں۔ورنہ ہمارے اندر وہ اثر کریں گی ، جس سے ممکن ہے ، ہمارے بچے ہلاک ہو جائیں۔لیکن بد عمل یعنی بر اعمل کرنے والے سے آپ نے نفرت نہیں کی۔اس یہودی سے آپ نے نفرت نہیں کی، جس نے اپنی بیماری کی وجہ سے آپ کے بستر کو گندا کر دیا تھا۔اس قوم سے نفرت نہیں کی، جس نے سالہا سال تک آپ کو آپ کے صحابہ کو انتہائی تکالیف پہنچائیں۔جنہوں نے اڑھائی سال تک شعب ابی طالب میں قید رکھ کر آپ کو بھوکا مارنا چاہا۔جب ان کی بھوک کا وقت آیا تو خدا کے اس بندے نے ان کے لئے روزی اور ان کے پیٹ بھرنے کا سامان پیدا کیا۔525