تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 524
خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم جس مقصد کے لئے میں سپین گیا تھا اور جس کے پورا ہونے کے بظاہر آثار پیدا ہو گئے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہمارا کام کر دے۔کیونکہ ہم کمزور اور عاجز بندے ہیں۔پھر وہ دن ساری امت مسلمہ کے لئے بڑی خوشی کا دن ہوگا۔بعض اس کو پہچانیں گے اور خوش ہوں گے۔بعض نہیں پہچانیں گے اور خوش نہیں ہوں گے۔یہ ان کی بدقسمتی ہوگی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دن ساری امت مسلمہ کے لئے خوشی کا دن ہو گا۔میں نے مغربی افریقہ کے ممالک جہاں مسلمانوں کی بڑی بھاری اکثریت ہے، ان میں سے بعض کے سفراء سے یہ کہہ دیا تھا کہ میرا ایک مشن ہے، جس کے لئے میں پین جارہا ہوں۔اور تم دعا کرو اور اس سے اصل مقصد میرا یہ تھا کہ میں دعا کے لئے کہوں گا، ان کے دل میں بھی احمدیت کی کوششوں کے بارے میں ایک چسپی اور پیار پیدا ہو گا۔چنانچہ وہ اتنے خوش ہوئے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔اور انہوں نے بڑی دعائیں دیں۔بلکہ ان میں سے ایک نے مجھے کہا کہ مسٹر گر نیکوکو کہہ دینا کہ میرے چانے سپین کی اس وقت مدد کی تھی، جب کہ انہیں مدد کی ضرورت تھی۔اگر وہ آپ کا یہ کام کر دیں تو میرا اچھا بھی بہت خوش ہوگا۔غرض انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔لیکن میں نے انہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ پر میرا تو کل ہے، وہ پورا کرے گا۔انشاء اللہ خدا کرے کہ وہ وقت مقدر جلد آ جائے۔اور ہمارے لئے آج ہی وہ خوشیوں کے دن کی ابتدا بن جائے۔بو میں بھی گرمی میں مجھے سفر کے بعد بڑی کوفت کے باوجود کوئی اڑھائی ہزار احباب سے مصافحے کرنے پڑے تھے۔مجھے شبہ تھا کہ میں بے ہوش ہو کر نہ گر جاؤں۔جب یہ کیفیت پیدا ہوئی تو میں نے پانی مانگا اور پھر میں نے ان سے کہا، مجھے پانی پلاتے جاؤ یا شاید ڈاکٹر صاحب تھے، ان کو خیال آیا۔غرض تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دوست مجھے پانی پلا دیتے تھے اور میں پھر وہ سلسلہ شروع کر دیتا، یہاں بھی میں یہی کر رہا ہوں۔) آج کے خطبہ میں، میں نے بعض اصولی اور بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے۔افریقہ میں اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے وقت مجھے ان کی یہ کیفیت بڑی پیاری لگی کہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔مذہب کے معاملہ میں لڑائی بالکل احمقانہ بات ہے۔چنانچہ وہ آپس میں بالکل نہیں لڑتے ، نہ عیسائی مسلمانوں سے اور نہ مسلمان عیسائیوں سے۔بلکہ امن سے وہ رہ رہے ہیں۔وہ آپس میں تبادلہ خیالات کرتے ہیں، دلائل دیتے ہیں۔ایسے دلائل کہ ان کو سن کر یہاں شاید لوگ ایک دوسرے کا سر پھوڑنے کے لئے تیار ہو جائیں۔مگر وہ بشاشت سے ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ جس کے دل کی کھڑکیاں کھول دے ، وہ اسلام لے آئے۔وہ اور بات ہے۔لیکن ان کو یہ پتہ ہے کہ مذہب بہر حال دل کا معاملہ ہے۔اسے سر پھوڑ کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔524