تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 36

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کھاد ڈالی جاتی ہے تا وہ درخت اپنے کمال کو پہنچ جائے۔اسی طرح انسانی فطرت اسی وقت کمالات حاصل کرتی اور کر سکتی ہے، جب اس کا ماحول اور فطرت رکھنے والا اپنی توجہ کو اس طرف رکھے کہ جس رنگ میں میرے رب نے میری فطرت صحیحہ کو پیدا کیا ہے، اسی رنگ میں ، میں اسے رکھوں۔اور جو چیزیں اور جو باتیں اللہ تعالیٰ نے فطرت صحیحہ کی نشو و نما کے لئے ضروری قرار دی ہیں ، ان کا خیال رکھوں اور استقامت کے مقام سے پرے نہ ہوں۔بلکہ جو چیز ہے، وہ اسی طرح رہے، جس طرح وہ بنائی گئی ہے۔یعنی خدا تعالی کی آواز پر لبیک کہنے والی فطرت شیطانی وسوسوں کی طرف متوجہ نہ ہو اور وہ خدا تعالیٰ کی ہر آواز پر لبیک کہتی رہے اور اس کے حضور ہمیشہ جھکی رہے۔تب وہ فطرت، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر بنانے اور اسے عبودیت کا بلند مقام عطا کرنے کے لئے پیدا کیا ہے، اپنے کمالات کو پہنچ سکتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اکثر لوگ بعض اوقات نیکی کے رستہ سے ہٹ جاتے ہیں اور وہ نیک اعمال کے ساتھ ساتھ کچھ بدیوں کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں۔پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے مومن کے لئے نجات کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جاتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں۔ایسے مومن کے لئے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور رحمانیت سے یہ دروازہ کھولا ہے کہ جب بھی اس سے کوئی غلطی ہو ، وہ اس کا اقرار کرے اور پھر پختہ نیت کے ساتھ یہ عہد کرے کہ آئندہ وہ اس غلطی کا مرتکب نہیں ہو گا۔اور پھر پوری کوشش کرے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی غلطیوں سے بچتار ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر اس خلوص نیت کے ساتھ تم تو بہ کر کے میرے سامنے آؤ گے تو چونکہ میں غفور ہوں، اس لئے تمہارے تمام گناہ معاف کر دوں گا۔اور جتنا اور جس قدر تم استقامت کے مقام سے ہٹ گئے تھے ، میں تمہیں پھر اسی مقام کی طرف لوٹا کر لے آؤں گا۔کیونکہ جب گناہ معاف ہو گئے تو گناہ گار پوری طرح نیک بن گیا۔گناہ نے اسے استقامت کے مقام سے پرے ہٹایا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اسے اٹھا کر پھر صحیح مقام پر کھڑا کر دیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات غفور اور تو اب کی وجہ سے اور پھر انسان پر رحم کرتے ہوئے ، اس کے لئے تو بہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔اور وہ اپنے بندہ سے کہتا ہے، اے میرے بندے! تم سے جب بھی کوئی غلطی ہو۔تم اس کا اعتراف کرتے ہوئے، تو بہ کرو۔پھر ندامت کا احساس دل میں پیدا کرو۔میرے حضور تضرع اور تذلل سے جھکو۔اور مجھ سے یہ امید رکھو عَسَى اللهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ کہ میں تمہاری توبہ قبول کروں گا۔36