تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 37
تحر یک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966 ء جب خدا تعالیٰ کے لئے عسی کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں تم یہ امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تو بہ کو قبول کرے گا۔یعنی یہ لفظ انسان کی امید پر دلالت کرتا ہے۔پس عَسَى اللهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ خدا تعالیٰ کہتا ہے، اگر تم اس ذہنیت اور اس نیت کے ساتھ میرے سامنے آؤ گے تو میں تمہاری تو بہ کو قبول کرلوں گا اور تمہیں صراط مستقیم پر لا کھڑا کروں گا۔تمہاری جو فطری اور طبعی حالت ہے، وہ تمہیں حاصل ہو جائے گی۔اور اس طرح تم ان بلندیوں اور کمالات کو حاصل کر سکو گے، جن کے حصول کے لئے میں نے تمہیں پیدا کیا ہے۔لیکن بلندیوں کا حصول محض ترک گناہ یا گناہوں کے معاف کر دئیے جانے کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔ترک معاصی اور چیز ہے اور اعمال صالحہ بجالا نا بالکل اور چیز ہے۔پس ترک معاصی یا گناہوں کے معاف کر دئیے جانے کی وجہ سے انسان ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا وہ گنہ گار نہ رہا، عاصی نہ رہا۔اور یہ پہلا زینہ ہے، روحانی ترقیات کا۔لیکن روحانی ترقیات کے حصول کے لئے عملاً نیک کاموں کا بجالانا اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنا ضروری ہے۔اسی طرح جہاں اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں اپنی صفات غفور، تو اب اور رحیم کو پیش کر کے انسان کو گناہوں کے بخش دینے کا یقین دلایا۔وہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا :۔خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تو ان کے اموال میں سے صدقہ لے۔ان دونوں آیات کو آگے پیچھے لانے سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ روحانی ترقیات کے لئے ترک معاصی کافی نہیں۔اس لئے کہ مثلاً دنیا میں ہزاروں قسم کے جانور ایسے ہیں، جن میں سے کسی کے متعلق بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ گنہگار ہے۔زمیندار اپنے گھروں میں بھیڑ ، بکریاں بھی رکھتے ہیں ، گائے اور بیل بھی رکھتے ہیں، بھینس اور بھینسے بھی رکھتے ہیں، اونٹ بھی رکھتے ہیں، غرض مختلف قسم کے جانور ان کے پاس ہوتے ہیں۔مگر کبھی کسی زمیندار نے باوجود اس کے کہ جانور گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے ، یہ نہیں کہا کہ میر افلاں جانور ( ان معنوں میں جن میں انسان گنہ گار کہا جاتا ہے) گنہ گار ہے یا فلاں جانور گنہ گار نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے لئے قانون ہی ایسا بنایا ہے کہ انہیں گناہ کرنے کی آزادی دی ہی نہیں۔وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے، کرتے ہیں۔گناہ نہیں کرتے۔پس جہاں تک ترک معاصی کا سوال ہے، یہ کمال ہر جانور کے اندر پایا جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم یہ نہیں کہتے اور نہ کہہ سکتے ہیں کہ بہت بڑا اور بلند روحانی کمال رکھنے والے ہیں۔کسی گائے یا بھینس کو یا کسی 37