تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 504

خطبہ جمعہ فرمود 12 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم نہیں ہے۔وہ مصافحہ کرتے تھے اور خاموشی سے چہرہ دیکھنے لگ جاتے تھے۔پیچھے سے دوسرا آدمی ہو کا دیتا تھا کہ چل آگے۔لیکن یہ نہیں کہ کوئی بات کرنی ہے، اس لئے ٹھہر گئے ہیں۔بس چہرہ دیکھے جا رہے ہیں۔کئی ایک سے میں نے پوچھا بھی کیا سیری نہیں ہوتی، دیکھتے ہی چلے جاتے ہو؟ اور اتنا پیار دیکھا کہ بیان نہیں ہوسکتا۔وہ احمدیت سے پیار ہے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پیار ہے، وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے پیار ہے کہ ان کے ذریعہ سے (اصل تو توحید کا قیام ہے) خدا تعالیٰ کے پیار کو دنیا میں قائم کیا گیا ہے۔وہی ایک واحد و یگانہ ہے۔باقی تو سارا فسانہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات ہی حقیقت اور وہی باقی رہنے والی ہستی ہے۔مثلاً ایک بڑھیا، جسے پوری طرح نظر بھی نہیں آتا تھا، سفر بھی نہیں کر سکتی تھی۔اس نے دو مہینے خرچ کر کے ایک ٹوکرا بنایا اور اپنی بیٹی کو بھیجا اور تاکید کی کہ اپنے ہاتھ سے دینا اور دعا کے لئے کہنا۔وہ بچی کہنے لگی کہ میری ماں سفر نہیں کر سکتی تھی، مجھے اس نے یہ ٹو کرا دے کر بھیجا ہے۔اس کے بنانے پر اس نے دو ماہ خرچ کئے ہیں۔ہمارے ساتھیوں سے غلطی ہوئی ، وہ سیرالیون میں رہ گیا۔میں نے کہا یہ ٹو کر پیچھے نہیں رہے گا۔چنانچہ وہاں تاردی اور اسے ہوائی جہاز کے ذریعہ لندن منگوایا اور اب اسے میں یہاں لے آیا ہوں۔میں نے ان سے کہا کہ تم یہ دیکھتے ہو کہ بازار میں اس کی قیمت دس روپے ہے اور میں یہ دیکھتا ہوں کہ جس پیار نے اس کو بنایا ہے، دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے، یہ تو میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔بعض نے کہا کہ یہ کپڑ چھ ماہ سے تیار کرنا شروع کیا تھا اور اب ہم تیار کر کے اس کو آپ کے لئے لائیں ہیں۔دھاگہ بھی ہم نے بنایا، پھر کپڑا بھی ہم نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر اسے آخری شکل جود دینی تھی ، وہ بھی اپنے ہاتھ سے دی۔یہ کھدر کے بڑے موٹے وزنی کپڑے ہیں۔آپ انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ بازار میں شاید سات، ساڑھے سات روپے میں مل جائیں۔لیکن میں نے کہا، میں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔چاہیے ان کے کرایہ پر ہزاروں روپے ہی کیوں نہ خرچ کرنے پڑیں۔کچھ ہمارے ساتھ آگئے ہیں، کچھ کے یہاں لانے کا ہم انتظام کر کے آئے ہیں۔وہ سارے انشاء اللہ یہاں پہنچ جائیں گے۔پس احمدیت کے ساتھ ان کا اس قسم کا پیار ہے اور وہ احمدیت کے فدائی ہیں۔بالکل نڈر ہیں۔لیگوس میں ہم پہنچے تو ہوٹل کے باہر سینکڑوں بچے تھے، جو احمدیت زندہ باد، اسلام زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔” زندہ باد کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ اسے سارے سمجھتے ہیں۔نیز اھلا و سھلا کہہ رہے تھے۔پس وہ نعرے لگا رہے تھے جب میں آگے بڑھا تو ہمارے احمدی بھائی نعرے لگاتے ہوئے 504