تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 35

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء بلکہ غیر اللہ کی محبت کے نام سے اسے یاد کیا جا سکتا ہے۔اور یہ غیر اللہ کی محبت آہستہ آہستہ دلوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔پہلے ایک غلطی ہوتی ہے، پھر دوسری، پھر تیسری۔اسی طرح ایک کے بعد دوسری غلطی ان سے ہوتی ہے۔اور وہ دل، جو خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے بنایا گیا تھا اور وہ دماغ ، جس میں خدا تعالیٰ کی محبت کے سوا کسی اور کی محبت کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تھی ، وہ غیر اللہ کی محبت میں بری طرح پھنس جاتا ہے۔اس طرح ان لوگوں کے دل، دماغ اور فطرت صحیحہ استقامت کے مقام سے ہٹ جاتی ہے اور دور ہو جاتی ہے۔لیکن استقامت اور ثبات قدم ایمان اور روحانی مدارج کے حصول کے لئے نہایت ضروری ہے۔استقامت کے معنی ہیں، کسی چیز کو اس کے عین محل اور مقام پر رکھنا۔گویا وضع الشئ فــي محلہ کا نام ہی استقامت ہے۔یا یوں کہا جا سکتا ہے، ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے۔یعنی جس شکل اور جس رنگ میں اور پھر جس طور پر اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو پیدا کیا ہے، اگر وہ طبعی حالت پر قائم رہے تو کہا جائے گا، یہ استقامت رکھتی ہے یا یہ چیز مستقیم ہے۔لیکن جب وہ چیز اپنی طبیعت اور فطرت کے تقاضوں سے دور چلی جائے یا انہیں وہ پورا نہ کر رہی ہو تو وہ چیز استقامت سے ہٹ جاتی ہے اور اسے مستقسیم نہیں کہا جا سکتا۔اور جب تک وہ چیز اپنی فطرت پر قائم نہ رہے یاوہ اپنی بناوٹ اور طبعی حالت کو قائم نہ رکھے، وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کر سکتی۔اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک حد تک درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔وہ جب پیدا ہوتی ہے تو کمال کے حصول کی قوتیں اس کے اندر موجود ہوتی ہیں۔لیکن اس میں کمال پایا نہیں جاتا۔دنیا کی کسی چیز کو لے لو، وہ ایک خاص زمانہ گزرنے کے بعد ایک خاص ماحول میں سے گزرنے کے بعد اور پھر ایک خاص تربیت کے بعد اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔درختوں کو ہی لے لو، ایک درخت لگایا جاتا ہے تو اسے لگانے سے پہلے اس کے لئے زمین تیار کی جاتی ہے۔اس درخت کے اندر اللہ تعالیٰ نے نشو ونما کی قوتیں تو رکھ دی ہیں مگر جب تک ان قوتوں کو بروئے کار نہ لایا جائے ، وہ اپنے کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔اور ان قوتوں کو بروئے کارلانے کے لئے ہمیں اس کے لئے زمین کو تیار کرنا پڑتا ہے۔پھر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کوئی غیر زمین کی اس قوت کو کھینچ کر نہ لے جائے ، جسے اس درخت نے حاصل کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا باغبان درخت کی جڑوں کے پاس سے ہمیشہ جڑی بوٹیاں اور گھاس نکالتا رہتا ہے اور غلائی کرتا ہے۔پھر اس درخت کے لئے ضرروی ہے کہ اسے وقت کے اندر پانی دیا جائے اور اگر کوئی درخت زمین سے نشو و نما حاصل کر چکا ہوتا ہے اور اب اس میں مزید طاقت باقی نہیں رہتی ، جو وہ اس درخت کو پہنچائے تو باہر سے 35