تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 481 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 481

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرموده 07 جون 1970ء ستھرے کپڑے پہنتے ہیں اور پاکستانیوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔میں نے کسی جگہ پانی نہیں دیکھا، جہاں کپڑے دھونے والے افریقن نہ ہوں۔وہ ہر وقت کپڑے دھوتے ہوئے نظر آئے ہیں۔میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ لوگ دن میں تین دفعہ نہاتے ہیں۔اور دن میں دو، چار دفعہ جسے بدلتے ہوئے ، میں نے خود دیکھا ہے۔جب وہ جبہ بدلتے تھے تو ساتھ ہی ان کی شکلیں بدل جاتی تھیں۔پتہ نہیں لگتا تھا کہ یہ وہی ہے کہ جس نے پہلے ایک اور رنگ کا جبہ پہنا ہوتا تھا۔پس بہت صاف ستھرے لوگ ہیں۔لیکن وہ پیاس جو ہے، ان کے دل میں وہ سوائے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی اور بجھا نہیں سکتا۔اور ہم آپ کے غلام بلکہ غلاموں کے بھی غلام ہیں۔یہ فرض خدا تعالیٰ نے ہمیں سونپا ہے کہ ہم ان کو پیار کریں اور ان کی پیاس کو بجھائیں۔عیسائی اور بد مذہب اس بات کا اظہار کرتے تھے۔وہاں میرے پاس سینکڑوں میلوں سے بڑے بڑے وجاہت والے اور پیسے والے افریقن بھی آئے ہیں کہ دعا کریں۔دعا ان کو کہیں نہیں ملتی۔دعا بھی پیاس کا نتیجہ ہے۔ان کو یہ احساس ہے کہ یہاں سے ہمیں پیار بھی ملے گا اور دعا بھی اور پھر یہ کہ یہ ہمدرد ہیں۔میں سوچتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہ باغ لگایا، آپ کو اپنی زندگی میں یہ خواہش تھی کہ آپ وہاں جائیں اور دیکھیں کہ کیسے پھل لگ رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق دیتا لیکن حکمت الہی نے ایسا مقدر نہیں کیا۔اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر شروع میں ہم چلے جاتے تو ہماری بات پر اعتبار نہ کرتے۔اب پچاس سالہ خدمت کے بعد میں دھڑلے سے انہیں کہتا تھا اور وہ مانتے تھے اور پہلے ہی وہ سمجھتے تھے۔اور اس بات کا وہاں بڑا اثر ہے۔ایک عیسائی کو میں نے مثلاً یہ کہا وہی بات میں اوروں کو بھی کہتا تھا۔میں نے کہا کہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جب عیسائیت یہاں پر آئی تو پیغام یہی لے کر آئی تھی کہ ہمارا message ( مسیج ) message of love ( میسج آف لو) ہے۔لیکن پادریوں کے پیچھے یورپی اقوام کی فوجیں تھیں۔اور تم نے جو اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کیا ، وہ یہ تھا کہ اس message of love نے سوائے اس جسے کے کچھ نہیں دیا، جس نے اپنے اندر توار کو چھپایا ہوا ہے۔اور تمہیں حقارت سے دیکھا تمہارے اموال لوٹ کر لے گئے۔میں نے گوون کو بھی کہا کہ میں نے تمہاری تاریخ اور تمہارے حالات سے متاثر ہو کر ایک دوست سے یہ کہا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا تھا مگر سب کچھ تم سے چھین لیا گیا۔تمہارے لئے ان لوگوں نے کچھ نہیں چھوڑا۔لیکن ان کو میں نے کہا، پچاس سال سے ہم تمہارے ملک میں ہیں اور تم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ تمہارے ملک سے ایک دھیلہ بھی ہم باہر لے کر نہیں گئے۔تمہاری دولت کی ہمیں حرص نہیں ہے، تمہاری محبت سے مجبور ہو کر ہم یہاں آئے ہیں۔اور تمہاری سیاست میں ہم حصہ نہیں لیتے۔ہم ان ملکوں میں سیاسی اقتدار نہیں چاہتے ، ہم تمہاری خدمت کرنا 481