تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 473
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم روپے کا انتظام کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اسی کی عطا ہے، گھر سے تو کچھ نہ لائے خطاب فرموده 07 جون 1970ء جو میرے اور آپ کے پاس ہے، وہ ہمارا اپنا کب ہے؟ وہ اس نے دیا ہے۔اس لئے ہمارے پاس ہے۔افریقہ میں بچوں نے عربی میں نظم پڑھی تھی۔بڑی پیاری تھی۔اس کا ایک شعر مجھے یاد ہے۔یہ نظم ایک موقع پر سب بچوں نے مل کر گائی تھی۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔یا ابن ادم اے آدم کے بچو! المال، مالی جو تمہارے پاس مادی سامان اور مال ہیں، وہ میرا مال ہے، تمہارا نہیں ہے۔والجنة، جنتی اور جس جنت کا میں وعدہ دے رہا ہوں، وہ بھی میری جنت ہے۔وانتم عبادی اور تم میرے بندے ہو۔میں تم سے یہ چاہتا ہوں اور یہ خواہش رکھتا ہوں کہ میری جنت کو میرے دیئے ہوئے مال سے تم خرید و۔یہ بڑا احسان الہی ہے کہ آپ ہی ایک چیز ایک ہاتھ میں پکڑائی اور آپ ہی پھر اس کے ساتھ سودا کر لیا کہ یہاں آؤ، جنت خرید لو۔مجھے یہ نظم بہت پیاری لگی۔حقیقت یہی ہے کہ وہ انسان احمق ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس مال ہے، وہ تو میرا ہے۔اور جو میں نے جنت خریدنی ہے، وہ اللہ کی ہے۔مال بھی اللہ کا ہے، جنت بھی اللہ کی ہے اور بندہ بھی اللہ کا۔اس کا فضل ہے کہ وہ بندے سے یہ کہتا ہے کہ یہ لو پیسے، یہ ہے سامان اور ان پیسوں سے جو میں تم کو دے رہا ہوں ، تم میری جنت کو خرید لو۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ نہ مجھے یہ فکر ہے کہ جن تھیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، وہ مجھے کہاں سے ملیں گے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بھیجو، وہاں اتنے ڈاکٹر، تو وہ جائیں گے۔وہاں جس چیز کی مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی فکر ہونی چاہئے ، وہ یہ ہے کہ محض قربانی خدا کے حضور پیش کر دینا ثمر آور نہیں ہوا کرتا۔جب تک وہ قربانی اللہ کے حضور قبول نہ ہو جائے۔اور بہت سی قربانیاں کسی اندرونی خبائث کی وجہ سے رد کر دی جاتی ہیں۔پس دعا کرو اور میں بھی یہ دعا کرتا ہوں کہ اے ہمارے رب ! تیرا مال تیرے حضور ہم نے پیش کیا۔تجھ پر ہمارا کوئی احسان نہیں۔تیرا ہم پر احسان ہے کہ تو ایک عظیم بدلے کا ہم سے وعدہ کرتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی اندرونی بیماری یا کمزوری یا غفلت یا تکبر وغیرہ جو ہیں ، ان کی وجہ سے ہماری یہ پیشکش قبول نہ ہو اور رد کر دی جائے۔اے ہمارے رب ! ہماری اس حقیر پیشکش کو قبول کر اور اپنے وعدوں کے مطابق اپنے فضلوں اور اپنی رضا کا اور اپنے پیار کا ہم کو وارث بنا۔میں نے دوستوں سے کہا کہ یہ دعا کرو۔کیونکہ مجھے کوئی غم اور فکر نہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ آدمی کہاں سے آئیں گے؟ وہ تو ہو جائے گا۔خدا کہتا ہے کہ ایسا کرو۔وہ انتظام کرے گا۔جو اس کا کام ہے، وہ کرے گا۔لیکن اپنی خیر مناؤ۔اور مجھے اپنی خیر منانے کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا! یہ حقیر کوششیں قبول فرما۔473