تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 451 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 451

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم ارشاد فرمودہ 30 مارچ 1969ء میری طبیعت میں زمیندارہ کی سادگی اور زمیندارہ طرز رہائش کی محبت اور پیار ویسے ہی پایا جاتا ہے۔میرے خیال میں شاید سارے ہی خاندان میں ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ مجھے بڑا لطف آتا ہے، میں کسی گاؤں میں جاؤں یا مثلاً بعض دفعہ اپنی زمینوں پر ہی جاتا ہوں تو بغیر چادر کے چار پائی پر بیٹھوں۔میں یہ تکلف پسند نہیں کرتا کہ کوئی آکر چادر بچھا دے۔اور مجھے بڑا لطف آتا ہے، اگر کوئی مجھے گاؤں میں مٹھی روٹی یا مکئی کی روٹی اور ساگ دے۔بجائے اس کے کہ وہ میرے لئے مرغا ذبح کرنے کی کوشش کرے۔اور مجھے بڑا لطف آتا ہے، اگر میں لسی پیوں ، خواہ وہ بغیر نمک کے ہو، جیسا کہ ہمارے علاقہ میں رواج ہے۔یہاں یہ رواج ہے کہ کسی میں نمک بالکل نہیں ڈالتے۔شاید پانی کھارا ہے، اس وجہ سے یا کوئی اور وجہ ہے۔اس علاقے میں یہی عادت ہے۔کئی دفعہ باہر گئے ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ زمیندار کا آ گیا کھانا تو صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ کسی کس قسم کی پیتے ہیں؟ گاڑھی پیتے ہیں، پتلی پیتے ہیں؟ نمک ڈالتے ہیں نہیں ڈالتے ؟ میں ان کو کہہ دیا کرتا ہوں کہ ذرا مجھے بھی پلاؤ۔دیکھوں، کیا تم پی رہے ہو؟ اس طرح مجھے پتہ لگا کہ کسی میں نمک بالکل نہیں ڈالتے۔لیکن اس میں بھی اپنا ایک مزہ ہے۔جو زمیندارہ سادگی ہے، اس میں بڑا لطف ہے۔زمینداروں کو میں یہ نصیحت کروں گا، ٹرانسسٹر کے نتیجہ میں آپ کی سادہ زندگی پر برے اثر نہیں پڑنے چاہئیں۔اپنی اس زندگی کو قائم رکھیں۔پس یہ نہیں کہ اس سادہ مخلص احمدی زمیندار کے اخلاص میں کمی ہے۔یہ بڑی خطرناک بدظنی ہے۔اور ایک لحظہ کے لئے میں اسے برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔سچی بات یہ ہے کہ اس کو یہ احساس ہی نہیں دلایا گیا کہ کتنا اہم کام ہے؟ کتنا اہم فریضہ ہے، جو انہوں نے ادا کرنا ہے؟ اور اس کام کی ذمہ داری انہوں نے اٹھانی ہے۔اگر یہ باتیں ان کے ذہن نشین کی جائیں تو ہمیں چندہ کی تحریک کی ضرورت نہیں۔بعض دفعہ طبیعت پر یہ بار ہوتا ہے کہ انسانی فطرت ہے کہ بار بار آدمی یہاں سے جائے اور کہے، جی پیسے دو، پیسے دو۔وہ کہتے ہیں کہ ان کو صرف پیسوں سے ہی غرض ہے اور ہماری روحانی ترقی سے ان کو سروکار ہی نہیں۔اور وہ رد عمل ایک لحاظ سے تو نا مناسب ہے لیکن ایک دوسرے لحاظ سے بالکل فطری تقاضا ہے اور بڑا پیارا رد عمل ہے۔اگر اس روشنی میں ہم دیکھیں کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری روحانی ترقی کی تمہیں فکر ہونی چاہیے، پیسے تو ہم آپ ہی دے دیں گے۔ہمارے اخلاص کا، ہمارے تقویٰ کا ، ہماری روحانیت کا معیار بلند کرو گے تو پیسے ہماری جیبوں میں رہ جائیں گے؟ یہ تو ہمارا ہاتھ کبھی جیب میں نہیں جائے گا تو اچھل کر باہر آ جائے گا۔تو تم جو صحیح چیز ہے، اس کی طرف توجہ دلاؤ۔یہ بار بار ہمارے سامنے کیوں لاتے ہو؟ اس نقطہ نگاہ سے ان کا رد عمل بالکل درست ہے۔تو اگر ہم بالواسطہ اس نقطہ نگاہ سے در نہ تو بلا واسطہ اصل غرض ہی یہی ہے کہ ہر ایک احمدی تقویٰ کے اور ایثار کے معیار کو 451