تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 450
ارشاد فرمودہ 30 مارچ 1969ء تحریک جدید - ایک انہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کر دو گے اور اپنی جانوں کا ایک حصہ ( ہماری زندگی اوقات کے مجموعہ ہی کا نام ہے ) میرے حضور پیش کر دو گے اور اپنے خاندانوں کا ایک حصہ بطور واقف کے میرے حضور پیش کر دو گے تو میں تمہاری ان حقیر کوششوں میں بھی اتنی ہی برکت ڈالوں جتنی کہ ساری دنیا کے اموال اگر میرے سامنے پیش کر دیئے جاتے تو ان میں، میں برکت ڈالتا۔جماعت پر کتنا بڑا انعام اور احسان ہے۔سو یہ چیزیں ہر احمدی کو ذہن نشین کرائی جائیں۔جب وہ احمدیت کے قیام کی غرض سمجھنے لگے گا، جب وہ اسلام کی ضرورت پہنچاننے لگے گا، جب اس کے دل میں خود ہی خدا کی محبت کی چنگاری شعلہ زن ہو جائے گی، اس وقت وہ ان چیزوں کو حقیر سمجھے گا اور اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی اور خواہش رہے گی کہ آج ہم سے سولہویں حصہ یا دسویں حصہ کا مطالبہ کیا جارہا ہے یا بعض طوعی چندوں کے لحاظ سے اور مطالبے کئے جارہے ہیں۔بہر حال یہ ہماری ساری آمد یا ساری جائیداد نہیں۔یہ ہم بشاشت سے دیں گے اور اس نیت کے ساتھ دیں گے کہ اگر اور جب ہماری ساری آمدنیوں اور جائیدادوں کی خدا اور اس کے رسول کو ضرورت پیش آئے گی اور محد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی آواز ہمارے کانوں میں یہ پہنچی کہ میری بعثت کی غرض کو پورا کرنے کے لئے اپنی ساری جانوں اور اموال کو قربان کر دو، ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، سب کچھ قربان کر دیں گے۔پیداہمیت، یہ ضرورت ، غلبہ اسلام کے سلسلے میں جو جدوجہد ہے، اس کی ضرورت ہے۔وہ جماعت کے سامنے رکھنی چاہئے۔اگر دیہاتی جماعتوں میں مثلاً اس ضرورت کو واضح طور پر اور نمایاں طور پر پیش کر دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ بشاشت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نہ نبھائیں۔اور کوئی وجہ نہیں کہ وہ جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی اپنی ایک ماہ کی آمد کا کم از کم چوتھا حصہ یا پانچواں حصہ تحریک جدید کو نہ دے۔وہ لوگ جن کے سامنے جب یہ ضرور تیں رکھی گئیں اور جنہوں نے ان ضرورتوں کی اہمیت کو پہچان لیا، وہ اس وقت چوتھے حصے سے بھی کہیں زیادہ تحریک جدید کو دے رہے ہیں۔لیکن یہ خیال کرنا کہ یہ جو دے رہے ہیں، یہ زیادہ مخلص ہیں اور جو خاموش ہیں، وہ زیادہ مخلص نہیں، یہ بات میرے دماغ میں نہیں آتی۔جو میرا تجربہ ہے، مختلف حیثیتوں میں، میں نے جماعت میں کام کیا ہے۔جماعت کے بچوں سے میرا بڑا لمباواسطہ رہا ہے، بطور پرنسپل کے۔جماعت کے نوجوانوں سے بڑا لمبا واسطہ رہا ہے ، خدام الاحمدیہ میں۔جماعت کے بزرگوں سے خاصا لمبا میر اواسطہ رہا ہے، انصار اللہ میں۔دیہاتی جماعتوں سے بھی واسطہ رہا ہے۔میں زمیندار ہوں ، صرف خاندانی لحاظ سے نہیں بلکہ فطرتا بھی یعنی 450