تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 449 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 449

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشاد فرمودہ 30 مارچ 1969ء ہر احمدی کی دوستی اللہ تعالی سے قائم کرو، پھر کسی تحریک کی ضرورت نہیں ہوگی وو ارشاد فرموده 30 مارچ 1969ء برموقع مجلس مشاورت صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید ہر دو کے بجٹوں کے سلسلہ میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ حقیقت ہے کہ اگر تمام احمدی، جن کے رزق میں اللہ تعالیٰ نے برکت دی ہے اور ان کو یہ توفیق عطا کی ہے کہ وہ اپنی کوشش سے کچھ کمالیں، اگر وہ سارے شرح کے مطابق اپنی ذمہ داری کو نبھا ئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عملاً آئندہ سال ہمارا بجٹ پچاس لاکھ تک نہ پہنچ جائے۔اس کے لئے زیادہ وعظ ونصیحت کی ضرورت ہے۔مثلاً ایک دیہاتی جماعت میں اگر ہمارے مبلغ جائیں تو وہ براہ راست یہ نہ کہیں یا اتنے زور سے نہ کہیں کہ تم اپنے چندوں کو شرح کے مطابق ادا کرو۔بلکہ یہ کہیں اور یہ ان کے ذہن نشین کروائیں کہ تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شمولیت کا فخر یا اس گھر میں پیدا ہونے کا فخر عطا کیا ، جس گھر کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شمولیت کا فخر عطا کیا۔دو قسم کے احمدی ہیں۔یا وہ خود احمدی ہوئے ہیں یا احمدی گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔اور یہ ذہن نشین کرائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض کوئی دنیوی مجلس یا دنیوی جتھہ نہیں تھا کہ بعض دنیوی مقاصد کے لئے کھڑا کیا گیا ہو۔بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمام دنیا میں اسلام کی تعلیم کو پھیلایا جائے اور ہر انسان کو قرآن کے نور سے روشن کیا جائے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا جو مقصد تھا اور آپ جس رنگ میں بنی نوع انسان کے محسن اعظم بنے ، اس رنگ میں دنیا آپ کے حسن اعظم ہونے کی حیثیت اور ارفع مقام کو پہچانے لگے۔اور ان احسانوں سے فائدہ اٹھائے اور اس طرح آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔یہ بہت عظیم کام ہے۔اتنا عظیم کہ اگر ہم آج سارے کے سارے کھدر کے کپڑے پہن لیں اور اپنی تمام جائیدادیں اس غرض کے لئے خدا کے حضور پیش کر دیں ، تب بھی جہاں تک اموال کی کثرت کا سوال ہوگا، وہ ضرورت کے مقابلہ میں کثیر نہیں ہوں گے بلکہ پھر بھی قلیل ہی رہیں گے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اپنے تمام اموال اور تمام اوقات کو میری راہ میں وقف کر دو، سارے کے سارے بلکہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ اپنے اموال کا ایک حصہ اگر تم میری راہ میں پیش 449