تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 28 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 28

خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم بھی کچھ عرصہ بعد اسے واپس مل جائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہو، وہ خرچ نہیں ہوتا، نہ وہ ضائع ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ نے قرض کے طور پر لیا ہے، وہ اسے واپس کرے گا۔اور پھر اس شان سے واپس کرے گا ، جو ایک قادر اور رزاق خدا کے شایان شان ہے۔وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَنْقُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ میں اللہ تعالیٰ نے تین بڑے لطیف مضامین بیان کیے ہیں۔یقبض و یبصط کے ایک معنی ہیں، يسلب قوماً و يعطى قوما یعنی جسے چاہے غریب کر دیتا ہے اور اس کا مال لے کر دوسرے کو دیتا اور اسے امیر کر دیتا ہے۔دوسرے معنی یہ ہیں، یسلب تارةً ويعطى تارةً یعنی جب چاہے ایک شخص کا مال چھین لیتا ہے اور جب چاہے پھر اسے اموال عطا کر دیتا ہے۔تیسرے معنی قبض کے یہ ہیں، تناول الشيئي بجميع الكف۔گویا اس آیت میں یقبض ويبصط اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کی گئی ہے۔اور پہلے معنی کی رو سے اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا اظہار ایک بنیادی اقتصادی مسئلہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، جسے اقتصادیات میں تقسیم پیداوار کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔یعنی ملک کی پیداوار آگے مختلف افراد کے ہاتھوں میں کس طرح پہنچے گی؟ اور ملکی پیداوار کی تقسیم کے متعلق آزاد اقتصادیات میں بھی اور ایک ح تک بندھی ہوئی اور مقید اقتصادیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک وقوعہ تک ایک شخص جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا ہے، سونا بن جاتی ہے۔لیکن پھر بغیر کسی ظاہری سبب اور وجہ کے اس شخص پر فراخی کی بجائے تنگی آجاتی ہے۔وہی شخص ہوتا ہے ، وہی سرمایہ ہوتا ہے ، وہی حالات ہوتے ہیں، وہی کاروبار ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس سے برکت چھین لیتا ہے۔وہ جہاں بھی ہاتھ ڈالتا ہے، اسے نقصان ہی نقصان ہوتا ہے۔اس کی مالی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور وہ مفلس و قلاش ہو جاتا ہے۔حد ابھی چند دن ہوئے، ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے ، وہ تاجر ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک وقت تھا، اللہ تعالیٰ نے میرے اموال اور میرے کاروبار میں برکت ڈال دی تھی۔اس نے مجھے وافر رزق دیا تھا اور اس قسم کے حالات پیدا کر دیے تھے کہ میں جو بھی کام کرتا رہا، اس کے نتیجہ میں مجھے مال میں فراخی نصیب ہوئی۔لیکن اب اس قسم کے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ گو کام میں اب بھی وہی کرتا ہوں، جو پہلے کرتا تھا۔لیکن اب مجھے وہ نفع نہیں ہوتا ، جو پہلے ہوتا تھا۔غرض اس آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اصل قادر ذات جو اپنے ارادہ کے ساتھ اس دنیا میں تصرف کر رہی ہے، وہ میری ہی ذات ہے اور کوئی نہیں۔میں ہی ہوں، جو تقسیم پیداوار کے سلسلہ میں ایسی 28