تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 27 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 27

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء ج اِنْ يَّنْصُرُكُمُ اللهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ( آل عمران ع 17) جب خدا تعالیٰ تمہاری مدد کو آ جائے گا اور تمہارا ناصر بن جائے گا تو افلاس یا کوئی اور شیطانی حربہ تم پر غالب نہیں آسکے گا اور تمہیں مغلوب نہیں کر سکے گا۔کیونکہ تم نیک ارادہ نیک عمل اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اپنا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرتے ہو اور اس سے یہ امید رکھتے ہو کہ وہ اسے قبول کرے گا۔اس لیے وہ اسے رد نہیں کرے گا۔اور جس مال کو خدا تعالیٰ قبولیت کا شرف بخش دیتا ہے، وہ مال ضائع نہیں ہوتا ، اس میں ہمیشہ بڑھوتی ہی ہوتی رہتی ہے۔دراصل یہ شعر قرآن کریم کی ایک آیت کے مفہوم کو بیان کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةٌ وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَنْقُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ط (بقرة: ع 32) کیا کوئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کو اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر بطور قرض دے۔تا کہ وہ اس مال کو اس کے لیے بہت بڑھائے۔اور اللہ ہی ہے ، جو بندہ کے مال میں تنگی یا فراخی پیدا کرتا ہے اور آخر تمہیں اس کی طرف لوٹایا جائے۔اللہ تعالیٰ کے حضور تم جو مال بھی پیش کرتے ہو ، وہ اسی کا ہے۔اسی سے تم نے لیا اور اسی کو پیش کر دیا۔اپنے پاس سے تو تم نے کچھ نہیں دیا۔نہ تمہارا مال اپنا، نہ تمہاری جان اپنی ، نہ عزت اپنی ، نہ وقت اپنا اور نہ عمر اپنی۔غرض تمہارا اپنا کچھ بھی نہیں محض خدا تعالیٰ کی دین تھی۔اللہ تعالیٰ نے ہی یہ سب کچھ تمہیں دیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ فضل کیا، جیسا کہ وہ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اگر تم میری دین اور میری عطا میں سے کچھ مجھے دو گے تو میں تمہیں اس کا ثواب دوں گا۔دراصل غور کے ساتھ دیکھا جائے تو ہماری سب عبادتیں اللہ تعالیٰ کی سابقہ عطاؤں پر بطور شکر کے ہوتی ہیں۔یہ محض اس کا فضل ہے کہ وہ ادائے شکر پر مزید احسان کرتا ہے۔اس طرح شکر اور عطائے الہی کا ایک دور اور تسلسل قائم ہو جاتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ دیتے ہو تو وہ اسے بطور قرض کے لیتا ہے۔اور قرض دی ہوئی رقم خرچ نہیں سمجھی جاتی۔دیکھو، اس دنیا میں بھی ایک بھائی دوسرے بھائی کو قرض دیتا ہے۔مثلاً ایک شخص کے پاس دس ہزار روپیہ ہے۔اس کا بھائی اسے کہتا ہے، بھائی مجھے اس میں سے تین ہزار روپیہ بطور قرض حسنہ دے دو۔میں چند ماہ کے بعد اسے واپس کر دوں گا۔تو اب یہ تین ہزار روپے خرچ تو نہیں ہوئے۔اس کے پاس دس کا دس ہزار ہی رہا۔کیونکہ یہ تین ہزار 27