تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 429 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 429

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 17 اکتوبر 1969ء لئے تمہاری ہر کوشش بار آور ہوگی۔اس کا نتیجہ نکلے اور اس کے نتیجہ میں تمہارا مقصود تمہیں حاصل ہوگا۔اور اس کے نتیجہ میں اسلام کے غلبہ کی راہیں کھولی جائیں گی۔اور ایک تو کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں اور چونکہ ہر چیز اس کے علم میں ہے، تجدُوهُ عِندَ الله تمہاری ہر کوشش کا ایک نیک نتیجہ نکلے گا۔گو یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دنیا کے ارادے، تمہارے ارادے اور اللہ کے ارادے کے موافق نہیں ہیں۔تمہارا ارادہ یہ ہے کہ تم اپنا سب کچھ قربان کر کے اللہ کے اسلام کو دنیا میں قائم کرو۔نہ مشرک کا یہ ارادہ ہے اور نہ اہل کتاب میں سے جو منکر ہیں، ان کا یہ ارادہ ہے اور خواہش ہے۔اور نہ منافق ست اعتقاد والے کا یہ ارادہ اور خواہش ہے۔پس تمہارے اور تمہارے رب کے ارادے ایک شاہراہ پر گامزن ہیں اور منکر اور منافق کے ارادے اور خواہشات اس کے الٹ طرف جارہی ہیں۔یہ یادرکھو کہ اللہ تعالی ، جو تمام قدرتوں کا مالک ہے اور ہر چیز اس کے قادرانہ تصرف میں ہے، نتیجہ وہی نکلا کرتا ہے، جو وہ چاہتا ہے۔دنیا جو چاہے، سوچے۔دنیا جو چاہے، خواہش رکھے۔دنیا جس طرح چاہے، اسلام کے خلاف کوششیں کرے اور کرتی رہے۔دنیا ہر تد بیر اسلام کے مقابلہ پر کرے۔دنیا بعض دفعہ اپنی جہالت کے نتیجہ میں اپنے بد ارادوں کے حصول کے لئے دعا بھی کرتی ہے۔سو وہ دعا بھی کرے کہ جو اللہ کا منشاء ہے، وہ پورا نہ ہو اور جوان کا منشاء ہے، وہ پورا ہو جائے۔اس قسم کی دعائیں کرتے ہوئے ، چاہے ان کے ناک گھس جائیں، نہ ان کی تدبیر کامیاب ہوگی، نہ ان کی دعائیں ثمر آور ہوں گی اور نہ ان کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔کیونکہ ہر دعا اور ہر سوال اللہ سے، جو اس کے ارادہ اور منشاء اور رضا کے خلاف ہوتا ہے، وہ دعا کرنے والے کے منہ پر مار دیا جاتا ہے، قبول نہیں ہوتا۔غرض محض دعا کافی نہیں۔اس دعا کی ضرورت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہو۔پھر محض تدبیر کافی نہیں۔ان اعمال کی ضرورت ہے، جو مشکور ہوں۔جن کا اللہ تعالی کوئی نتیجہ نکالے اور وہ ضائع نہ ہوں۔تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے کہ ایک بڑی ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے۔پھر فرماتا ہے کہ تمہاری راہ میں ہر منکر اور منافق اور ست اعتقا دروکیں ڈالے گا۔پھر کام مشکل بھی ہے۔اگر یہ لوگ رو کیں نہ بھی ڈالتے ، تب بھی یہ آسان نہ ہوتا۔ساری دنیا کے دلوں کو خدا اور اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنا آسان کام نہیں۔اگر شیطان روکیں نہ بھی ڈالے، تب بھی بڑا مشکل کام ہے۔لیکن یہاں تو یہ صورت ہے کہ کام مشکل بھی ہے اور ساری دنیا اس کام کی مخالف بھی ہے۔اور چاہتی یہ ہے کہ ہماری کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔اسلام کو کامیابی اور کامرانی حاصل نہ ہو۔اور اپنی اس خواہش کو پورا 429