تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 430
خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کرنے کے لئے وہ ہر قسم کی تدبیریں کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، وہ اپنے مالوں کو پیش کرتے ہیں۔مثلاً اسلام کے مقابلہ میں اس وقت صرف عیسائیت ہی جتنی رقم جتنی دولت اور جتنا مال خرچ کر رہی ہے، اس کا شاید ہزارواں حصہ بھی جماعت احمدیہ کے پاس نہیں کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کرے۔غرض مخالفین، اسلام کو نا کام کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں زندگیاں وقف کرتے ہیں۔اربوں کی مقدار میں اموال دیتے ہیں۔اور صاحب اقتدارلوگوں کی پشت پنا ہی میں منصوبے باندھتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اگر تمہارے دل میں وہ اخلاص ہو، جس سے میں پیار کرتا ہوں۔اگر تمہارے اعمال مخلصانہ بنیادوں پر ہوں، جو مجھے پسند ہیں اور جن کو میں قبول کرتا ہوں تو نتیجہ تمہارے حق میں نکلے گا۔خواہ دنیا جتنا چاہے، زور لگا لے۔خواہ منافق اندرونی فتنوں سے ہر قسم کا فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ منکر کو بھی نا کام کرے گا۔اللہ تعالی مفسد اور منافق کو بھی کامیابی کی راہ نہیں دکھائے گا۔لیکن یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مختلف قسم کی قوتیں اور قابلیتیں عطا کی ہیں تم وہ ساری کی ساری خدا کی راہ میں وقف کردو۔اور پھر تم کہو کہ اے خدا! ہم نے اپنی طرف سے جو بھی ہمارا تھا، وہ خلوص نیت سے تیرے حضور پیش کر دیا۔ہمیں معلوم ہے کہ ہم غریب ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ہم بے مایہ ہیں ، ہمیں معلوم ہے کہ ہم کمزور ہیں، مگر اے خدا! ہم نے تیرے دامن کو پکڑا اور ہم اس یقین پر بھی قائم ہیں کہ تو سب قدرتوں والا ہے۔تو ایسا کر کہ ہماری کوششیں تیری نظر میں مقبول ہوں اور تیرے وعدے ہماری زندگیوں میں پورے ہوں۔تا کہ اس دنیا میں ہشاش بشاش تیری جنتوں میں داخل ہو کر تیری دوسری جنتوں میں داخل ہونے کے لئے یہاں سے کوچ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ اور توفیق دے کہ ہم اس مرکزی نقطہ کو سمجھیں کہ یہ ذمہ داری، جو ہم پر ڈالی گئی ہے، یہ ہم نے ہی نبھانی ہے۔کسی اور نے آکے نہیں نبھانی۔اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی استعدادوں کی نشو ونما اس رنگ میں کریں کہ جس رنگ میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم کریں۔اور اپنی طاقت، اپنی ہر قوت اپنی ہر استعداد اور قابلیت پر اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا رنگ چڑھانے کی کوشش کریں۔بے نفس ہوں اور فنا کی چادر میں خود کو لپیٹ لیں اور اللہ تعالیٰ میں گم ہو جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو“۔مطبوعه روزنامه الفضل 10 دسمبر 1969ء) 430