تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 416
خطبہ جمعہ فرموده 23 مئی 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم 1934ء میں ایک ایسا تخیل تھا کہ اگر آج کی تصویر لوگوں کے سامنے رکھ دی جاتی تو ان کی اکثریت اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہوتی۔مگر اس مرد اولو العزم نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ، یہ کام شروع کیا اور خدا تعالیٰ نے اس میں بڑی برکت ڈالی۔تیسری نمایاں چیز ، جو ہمیں تحریک جدید کے کام میں نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ غیر مذاہب کو اس کی وجہ سے اور اس کے کاموں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔اور وہ ، جو اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے اسلام کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ، آج وہ اسلام کے عقلی دلائل اور اسلام کی تاثیرات روحانیہ اور تائیدات سماویہ سے مرعوب ہورہے ہیں۔ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس عظیم انقلاب کی ابتدائی شکل ظاہر ہوگئی ہے۔اس کی تکمیل میں کچھ وقت لگے گا۔یعنی جب ہم ان اقوام کے دل اپنے اور ان کے رب کے لئے جیت لیں گے اور ساری دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جانے لگے گا اور اسلام مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے گا۔بہر حال اس انقلاب عظیم کے آثار ہمیں نظر آ رہے ہیں اور یہ بھی حیران کن ہیں۔انقلاب مختلف مدارج میں سے گزرتا ہے۔ایک دور اس کا یہ ہے اور وہ بھی عقل کو حیرانی میں ڈالنے والا ہے کہ آج سے چند سال پہلے اسلام کے خلاف اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منکرین اسلام کس طرح متکبرانہ غراتے تھے۔اور آج وہی لوگ ہیں، جو احمدی مربیوں اور مبلغوں سے بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں اور بات کرنے سے کتراتے ہیں۔اور تحریک جدید کے کام کا یہ حصہ ، جو ایک نمایاں خصوصیت کے رنگ میں ہمیں نظر آتا ہے، اس کے ساتھ یہ کام بھی ہوا ہے کہ ان ممالک میں قرآن کریم اور اس کی تفسیر کی بڑی کثرت سے اشاعت کی گئی ہے۔لیکن ابھی بہت روپے کی ضرورت ہے، ابھی بڑے فدائی مبلغوں کی ضرورت ہے، ابھی بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے، ابھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے بڑے مجاہدہ کی ضرورت ہے۔تا کہ ہم انتہائی اور آخری کامیابی دیکھ سکیں۔لیکن جو کام ہوا ہے، وہ بھی معمولی نہیں۔تراجم ہو گئے ، اسلامی تعلیم سے واقفیت ہوگئی ، تفسیر پڑھنے لگے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یورپ کے ملکوں میں رہنے والے ہمارے احمدی بھائیوں سے اگر آپ کسی مسئلہ پر بات کریں تو وہ شاگرد کی طرح سامنے نہیں بیٹھے ہوتے۔بلکہ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ قرآن کریم کی کوئی آیت یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پیش کر کے آپ کی بات کو رد کرتے ہیں۔غرض انہوں نے اسلام اور احمدیت کو علی وجہ البصیرت قبول کیا ہے۔اور اس سے ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیدا ہوئی۔بڑے شوق 416