تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 415
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 1969ء تحریک جدید حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک عظیم یادگار ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 1969ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔* چند دن سے مجھے سردرد کی تکلیف تھی۔لیکن کل یہ تکلیف بہت شدت اختیار کر گئی۔اس وقت کچھ افاقہ ہے۔میں اس وقت مختصراً جماعت کو ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اور وہ تحریک جدید کے چندوں کے وعدے اور ان کی ادائیگی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کی شکل میں اپنی ایک عظیم یادگار چھوڑی ہے۔اور اس کے جو نمایاں پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں، ان میں سے ایک نمایاں پہلو تو تربیت جماعت کا ہے۔آپ ایک لمبا عرصہ اسلام کی ضروریات جماعت کے سامنے رکھ کر جماعت کو آہستہ آہستہ تربیت اور قربانی اور ایثار کے میدانوں میں آگے سے آگے لے جاتے چلے گئے۔دوسرا نمایاں پہلو (جس وقت تحریک شروع ہوئی تھی ، اس وقت تو پاکستان نہیں تھا۔پاک و ہندا اگر کہہ دیا جائے تو دونوں زمانوں کی طرف اشارہ ہو جائے گا۔) پاک و ہند سے باہر جماعتوں کا قیام ہے۔1934ء میں جب تحریک شروع ہوئی تھی، بیرون پاک و ہند بہت کم جماعتیں تھیں۔ایک آدھ ملک میں کچھ لوگ احمدیت سے متعارف اور اس کی حقانیت کے قائل تھے۔لیکن تحریک جدید کے اجرا کے ساتھ (جو یقیناً الہبی تحریک ہے۔) بڑی کثرت سے مختلف ممالک میں جماعت ہائے احمد یہ قائم ہوئیں۔پھر ان کی تربیت ہوئی۔اور اب آپ سے ( جو مرکز میں رہنے والے ہیں یا مرکز جس ملک میں ہے، وہاں کے باشندے ہیں) وہ کسی صورت میں بھی پیچھے نہیں ہیں۔یہاں بھی کمزور احمدی پائے جاتے ہیں، غیر ممالک میں بھی کمزور احمدی پائے جاتے ہیں۔لیکن جس رنگ کا اخلاص ، فدائیت اور بے نفسی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق ہمیں جماعت احمدیہ کی بھاری اکثریت میں یہاں نظر آتا ہے، اسی طرح بیرون ملک کی جماعتوں میں بھی ہمیں نظر آتا ہے۔پھر جس طرح ہماری حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ہم سے پیار کرتا اور اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے، اسی طرح ان لوگوں سے بھی وہ اپنی محبت اور پیار کا اظہار کرتا ہے۔ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہا۔آج تو یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے، جو ہمیں نظر آ رہی ہے۔لیکن 415