تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 406 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 406

خطبه جمعه فرموده 10 جنوری 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سامان پیدا کر دے کہ جہاں جہاں اور جس قدر اسلام کی ضرورت تقاضا کرے، تیرے فضل سے اسلام کو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی ملتے رہیں۔تا تکمیل اشاعت ہدایت یعنی اسلامی شریعت کی اشاعت کی تکمیل کا جو زمانہ آج پیدا ہوا ہے، اس زمانہ کے تقاضوں کو جماعت پوری کرتی رہے۔اور اسلام ساری دنیا میں غالب آ جائے۔اور تمام قومیں اور تمام ملک اور ہر دل خدائے واحد و یگانہ رب رؤوف و رحیم کو پہچاننے لگے اور اس کی محبت ان کے دل میں پیدا ہو جائے۔اور وہ جو اس محبت کو قائم کرنے کے لئے سب سے اچھے سامان لے کر آیا اور دنیا کا محسن اعظم ٹھہرا، اس کی محبت اور اس کے لئے شکر کے جذبات بھی انسانیت کے دل میں پیدا ہوں۔تا کہ وہ اس طرح اپنے رب کے فضلوں کو زیادہ سے زیادہ پاسکے۔اس موقع پر میں نے ایک ضرورت کا بھی اظہار کیا ہے۔یعنی غلبہ اسلام کی مہم کی سرحدوں پر ایسے فدائیوں کی ضرورت ہے، جو اپنا سب کچھ قربان کر کے اور مثالی زندگی گزارتے ہوئے ، اسلام کی خدمت میں مشغول رہیں۔میں اپنے مربی بھائیوں کو آج اسی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہ میں صحیح مربی بننے کے لئے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک نور فراست، دوسرے گداز دل۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میں عقل کے نقص کو دور کرنے والا اور اس کو کمال تک پہنچانے والا ہوں۔اور اس کی جو خامیاں ہیں، وہ میرے ذریعہ دور ہونے والی ہیں اور اس کے اندھیرے، میرے ذریعہ روشن ہونے والے ہیں۔نیز قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میرے نزول کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ گداز دل پیدا کئے جائیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے:۔إِنَّا أَنْزَلْنَهُ قُرْإِنَّا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ) (آیت:3) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم کو نازل کرنے اور ایک ایسی کتاب بنانے میں جو اپنے مضامین کو کھول کر بیان کرتی ہے، ایک حکمت یہ ہے کہ انسان اپنی عقل سے صحیح کام لے سکے۔یعنی عقل میں جو فی نفسہ ایک بنیادی خامی ہے کہ آسمانی نور کے بغیر اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے، اس خامی کو قرآن کریم دور کرے۔جس طرح ہماری آنکھ، با وجود تمام صلاحیتوں کے اور دیکھنے کی سب قو تیں رکھنے کے، اپنے اندر یہ نقص بھی رکھتی ہے کہ وہ خورد یکھنے کے قابل ہے ہی نہیں ، جب تک بیرونی روشنی اسے میسر نہ ہو۔406